سنن ابي داود
أبواب قيام الليل— ابواب: قیام الیل کے احکام و مسائل
باب فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1354
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ،عَنْ حُصَيْنٍ ، نَحْوَهُ ، قَالَ : " وَأَعْظِمْ لِي نُورًا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ : عَنْ حَبِيبٍ فِي هَذَا ، وَكَذَلِكَ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : وَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ : عَنْ أَبِي رِشْدِينَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس طریق سے بھی حصین سے اسی جیسی روایت مروی ہے` اس میں «وأعظم لي نورا» کا جملہ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح ابوخالد دالانی نے اس حدیث میں «عن حبيبٍ» کہا ہے اور سلمہ بن کہیل نے «عن أبي رشدين عن ابن عباس» کہا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´تہجد کی رکعتوں کا بیان۔`
اس طریق سے بھی حصین سے اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں «وأعظم لي نورا» کا جملہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوخالد دالانی نے اس حدیث میں «عن حبيبٍ» کہا ہے اور سلمہ بن کہیل نے «عن أبي رشدين عن ابن عباس» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1354]
اس طریق سے بھی حصین سے اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں «وأعظم لي نورا» کا جملہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوخالد دالانی نے اس حدیث میں «عن حبيبٍ» کہا ہے اور سلمہ بن کہیل نے «عن أبي رشدين عن ابن عباس» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1354]
1354. اردو حاشیہ: فوائد و مسائل: ➊ صبح بیدار ہونے پر مسواک کرنا مسنون و مستحب عمل ہے۔
➋ رات کو جاگنے کے اوراد میں سے ایک اہم ورد سورۂ آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت بھی ہے۔
➌ تہجد کی نماز کو مختلف حصوں میں بانٹ کر پڑھنا بھی جائز ہے۔
➍ فجر کی نماز کے لیے جاتےہوئے مسنون دعا [اللهم اجعل في قلبي نورا..... الخ]
ہے۔ اور اس کا مفہوم یا تو ظاہری اور حقیقی نور کے حصول کی دعا ہے، جس سے قیامت کے اندھیروں میں نبیﷺ خود اور آپ کے متبعین روشنی حاصل کرں گے یاعلم وہدایت اور اعمال طاعت کی توفیق اور ثبات مراد ہے یا یہ دونوں ہی مراد ہیں۔
➎ حضرت ابن عباس کا تتبع سیرت کا شوق قابل تعجب ہے اور ان کےرتبۂ علیا کی دلیل بھی۔
➋ رات کو جاگنے کے اوراد میں سے ایک اہم ورد سورۂ آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت بھی ہے۔
➌ تہجد کی نماز کو مختلف حصوں میں بانٹ کر پڑھنا بھی جائز ہے۔
➍ فجر کی نماز کے لیے جاتےہوئے مسنون دعا [اللهم اجعل في قلبي نورا..... الخ]
ہے۔ اور اس کا مفہوم یا تو ظاہری اور حقیقی نور کے حصول کی دعا ہے، جس سے قیامت کے اندھیروں میں نبیﷺ خود اور آپ کے متبعین روشنی حاصل کرں گے یاعلم وہدایت اور اعمال طاعت کی توفیق اور ثبات مراد ہے یا یہ دونوں ہی مراد ہیں۔
➎ حضرت ابن عباس کا تتبع سیرت کا شوق قابل تعجب ہے اور ان کےرتبۂ علیا کی دلیل بھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1354 سے ماخوذ ہے۔