حدیث نمبر: 1351
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ الْوِتْرِ يَقْرَأُ فِيهِمَا ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ ، ثُمَّ سَجَدَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى هَذينِ الْحَدِيثَيْنِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو مِثْلَهُ ، قَالَ فِيهِ : قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ : يَا أُمَّتَاهُ ، كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتیں وتر کی پڑھتے ، پھر سات رکعتیں پڑھنے لگے ، اور وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے ۔ ان میں قرآت کرتے ، جب رکوع کرنا ہوتا تو کھڑے ہو جاتے ، پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ دونوں حدیثیں خالد بن عبداللہ واسطی نے محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کی ہیں ، اس میں ہے : کہ علقمہ بن وقاص نے کہا : اماں جان ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں کیسے پڑھتے تھے ؟ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب قيام الليل / حدیث: 1351
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (731)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1411)، وقدأخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 16 (738) (حسن صحیح) »