سنن ابي داود
أبواب قيام الليل— ابواب: قیام الیل کے احکام و مسائل
باب فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، قَالَ : " يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ يَدْعُو ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَةً فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ ، بِمَعْنَاهُ إِلَى مُشَافَهَةً " .
´اس طریق سے بھی قتادہ سے سابقہ سند سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور صرف آٹھویں رکعت ہی میں بیٹھتے تھے اور جب بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے پھر دعا مانگتے پھر سلام ایسے پھیرتے کہ ہمیں بھی سنا دیتے ، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر ایک رکعت پڑھتے ، اے میرے بیٹے ! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے “ ، پھر اسی مفہوم کی روایت لفظ «مشافهة» تک ذکر کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس طریق سے بھی قتادہ سے سابقہ سند سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور صرف آٹھویں رکعت ہی میں بیٹھتے تھے اور جب بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے پھر دعا مانگتے پھر سلام ایسے پھیرتے کہ ہمیں بھی سنا دیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے، اے میرے بیٹے! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے “، پھر اسی مفہوم کی روایت لفظ «مشافهة» تک ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1343]