حدیث نمبر: 1343
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، قَالَ : " يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ يَدْعُو ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَةً فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ ، بِمَعْنَاهُ إِلَى مُشَافَهَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس طریق سے بھی قتادہ سے سابقہ سند سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور صرف آٹھویں رکعت ہی میں بیٹھتے تھے اور جب بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے پھر دعا مانگتے پھر سلام ایسے پھیرتے کہ ہمیں بھی سنا دیتے ، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر ایک رکعت پڑھتے ، اے میرے بیٹے ! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے “ ، پھر اسی مفہوم کی روایت لفظ «مشافهة» تک ذکر کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب قيام الليل / حدیث: 1343
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (1342) والآتيين (1344، 1345)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16104) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´تہجد کی رکعتوں کا بیان۔`
اس طریق سے بھی قتادہ سے سابقہ سند سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور صرف آٹھویں رکعت ہی میں بیٹھتے تھے اور جب بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے پھر دعا مانگتے پھر سلام ایسے پھیرتے کہ ہمیں بھی سنا دیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے، اے میرے بیٹے! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے ، پھر اسی مفہوم کی روایت لفظ «مشافهة» تک ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1343]
1343. اردو حاشیہ: فائد: تہجد میں آٹھ رکعت اکٹھی کی بھی نیت کی جاسکتی ہے۔ اور درمیان میں کوئی تشہد نہیں ہوگا۔ اور سلام اونچی آواز سے کہنا بھی مباح و مسنون ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1343 سے ماخوذ ہے۔