حدیث نمبر: 1337
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، قَالَ : " وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ سَجْدَةً قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ ، وَسَاقَ مَعْنَاهُ " قَالَ : وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس طریق سے بھی ابن شہاب زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ، اس میں ہے کہ` ایک رکعت وتر پڑھتے اور اتنی دیر تک سجدہ کرتے جتنی دیر میں تم میں سے کوئی پچاس آیتیں ( رکوع سے ) سر اٹھانے سے پہلے پڑھ لے ، پھر جب مؤذن فجر کی اذان کہہ کر خاموش ہوتا اور فجر ظاہر ہو جاتی ، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی البتہ بعض کی روایتوں میں بعض پر کچھ اضافہ ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب قيام الليل / حدیث: 1337
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (736)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المسافرین 17 (736)، سنن النسائی/الأذان 41 (686)، (تحفة الأشراف: 16573، 16704، 16618) (صحیح) »