حدیث نمبر: 1330
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنِ بْنُ يَحْيَى الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، لَمْ يَذْكُرْ : فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا ، وَلِعُمَرَ : اخْفِضْ شَيْئًا ، زَادَ : " وَقَدْ سَمِعْتُكَ يَا بِلَالُ وَأَنْتَ تَقْرَأُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ ، وَمِنْ هَذِهِ السُّورَةِ " قَالَ : كَلَامٌ طَيِّبٌ يَجْمَعُ اللَّهُ تَعَالَى بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّكُمْ قَدْ أَصَابَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی واقعہ مرفوعاً مروی ہے` اس میں «فقال لأبي بكر : ارفع من صوتك شيئًا ولعمر اخفض شيئًا» کے جملہ کا ذکر نہیں اور یہ اضافہ ہے : ” اے بلال ! میں نے تم کو سنا ہے کہ تم تھوڑا اس سورۃ سے پڑھتے ہو اور تھوڑا اس سورۃ سے “ ، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : ایک پاکیزہ کلام ہے ، اللہ بعض کو بعض کے ساتھ ملاتا ہے ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سب نے ٹھیک کیا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب قيام الليل / حدیث: 1330
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15004) (حسن) »