حدیث نمبر: 1325
حَدَّثَنَا ابْنُ حَنْبَلٍ يَعْنِي أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " طُولُ الْقِيَامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( نماز میں ) دیر تک کھڑے رہنا ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہواکہ ایک لمبی نماز پڑھنی زیادہ رکعتیں پڑھنے سے افضل اور بہتر ہے، قیام کو لمبا کرنا کثرت سجود سے افضل اور بہتر ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب قيام الليل / حدیث: 1325
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بلفظ أي الصلاة , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه النسائي (2527 وسنده حسن),
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1449

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´تہجد دو رکعت سے شروع کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نماز میں) دیر تک کھڑے رہنا ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1325]
1325. اردو حاشیہ: فائدہ: اور اس کا مسنون ادب یہ ہے کہ پہلی دو رکعتیں ہلکی ہوں اور یہ حدیث بالتفصیل آگے آرہی ہے۔ (حدیث:1449)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1325 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1449 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نماز میں دیر تک قیام کا بیان۔`
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں دیر تک کھڑے رہنا ، پھر پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مال والا محنت کی کمائی میں سے جو صدقہ دے ، پھر پوچھا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی ہجرت جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جنہیں اللہ نے اس پر حرام کیا ہے ، پھر پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا جہاد جس نے اپنی جان و مال کے ساتھ مشرکین سے جہاد کیا ہو ، پھر پوچھا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جس کا خون بہایا گیا ہو اور جس کے گھوڑے کے ہاتھ پاؤں کاٹ لیے گئے ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1449]
1449. اردو حاشیہ: اللہ اکبر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو دین و ایمان کی سمجھ آجانے کے بعد گویا دنیاوی خواہشات ان کےدلوں سے اُتر ہی گئی تھیں۔ روٹی۔ کپڑے۔ اور مکان کے بارے میں نہ ان حضرات نے پوچھا نہ آپ نے فرمایا۔ درحقیقت یہ چیزیں دنیا کے سفر میں راہ گزاری کے لئے ہیں۔ مگر افسوس کہ اب لوگوں کے زہنوں پر یہ مادی اشیاء بہت زیادہ غالب آگئی ہیں۔ و إلی اللہ المشتکی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1449 سے ماخوذ ہے۔