سنن ابي داود
أبواب قيام الليل— ابواب: قیام الیل کے احکام و مسائل
باب افْتِتَاحِ صَلاَةِ اللَّيْلِ بِرَكْعَتَيْنِ باب: تہجد دو رکعت سے شروع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1323
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جب کوئی رات کو اٹھے تو دو ہلکی رکعتیں پڑھے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: غالبا ً اس سے تحیۃ الوضو مراد ہے، یعنی پہلے یہ دونوں رکعتیں پڑھ لے، پھر تہجد شروع کرے، یا یہ تہجد ہی کی نماز ہے، مگر ابتداء ہلکی سے شروع کرے، دوسری روایت میں ہے «ثم ليطول بعد ما شاء» یعنی پھر اس کے بعد جتنی چاہے لمبی کرے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب قيام الليل / حدیث: 1323
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف والصحيح وقفه , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (768)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 768 | مسند الحميدي: 1015
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1015 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1015- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص رات کے وقت بیدار ہو، تواسے دومختصر رکعات ادا کرلینی چاہئیں جس کے ذریعے وہ اپنی نماز کاآغاز کرے۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1015]
فائدہ:
نماز تہجد کی پہلی دو رکعات ہلکی پڑھنی چاہیے، یہ بعض اوقات پر محمول ہے، اور بعض دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی پہلی دو رکعات زیادہ لمبی پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم: 763، 1792]
نماز تہجد کی پہلی دو رکعات ہلکی پڑھنی چاہیے، یہ بعض اوقات پر محمول ہے، اور بعض دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی پہلی دو رکعات زیادہ لمبی پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم: 763، 1792]
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1014 سے ماخوذ ہے۔