سنن ابي داود
أبواب قيام الليل— ابواب: قیام الیل کے احکام و مسائل
باب وَقْتِ قِيَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد پڑھنے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1321
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ : تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ سورة السجدة آية 16 ، قَالَ : كَانُوا يَتَيَقَّظُونَ مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ يُصَلُّونَ ، وَكَانَ الْحَسَنُ ، يَقُولُ : قِيَامُ اللَّيْلِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` یہ جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے «تتجا فى جنوبهم عن المضاجع يدعون ربهم خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون» ” ان کے پہلو بچھونوں سے جدا رہتے ہیں ، اپنے رب کو ڈر اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں ، اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں “ ( سورۃ السجدۃ : ۱۶ ) اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان جاگتے اور نماز پڑھتے ہیں ۔ حسن کہتے ہیں : اس سے مراد تہجد پڑھنا ہے ۔