حدیث نمبر: 1319
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ابْنِ أَخِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ صَلَّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی معاملہ پیش آتا تو آپ نماز پڑھتے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: تاکہ نماز کی برکت سے وہ پریشانی دور ہو جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب قيام الليل / حدیث: 1319
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن عبد اللّٰه بن أبي قدامة الدؤلي مجهول (التحرير : 6041) وثقه ابن حبان وحده وفي السند اختلاف, وحديث أحمد (4/ 333 ح 18937 وسنده صحيح) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3375)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/388) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد پڑھنے کے وقت کا بیان۔`
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی معاملہ پیش آتا تو آپ نماز پڑھتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1319]
1319. اردو حاشیہ: فائدہ: امام صاحب کی ترتیب سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس سے مراد رات کی نماز کا اہتمام ہے، ویسے یہ کسی بھی وقت سے خاص نہ ہوتی تھی، بشرطیکہ وقت کراہت نہ ہوتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1319 سے ماخوذ ہے۔