حدیث نمبر: 1317
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ وَهَذَا حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَيَّ حِينٍ كَانَ يُصَلِّي ؟ قَالَتْ : " كَانَ إِذَا سَمِعَ الصُّرَاخَ قَامَ فَصَلَّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مسروق کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں پوچھا : میں نے ان سے کہا : آپ کس وقت نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : جب آپ مرغ کی بانگ سنتے تو اٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور نماز شروع کر دیتے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب قيام الليل / حدیث: 1317
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ق بلفظ الصارخ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1132) صحيح مسلم (741)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/التھجد 7 (1132)، والرقاق 18 (6461)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (741)، سنن النسائی/قیام اللیل 8 (1617)، (تحفة الأشراف: 17659)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/110، 147، 203، 279) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد پڑھنے کے وقت کا بیان۔`
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا: میں نے ان سے کہا: آپ کس وقت نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جب آپ مرغ کی بانگ سنتے تو اٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور نماز شروع کر دیتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1317]
1317. اردو حاشیہ: فائدہ: مرغ بالعموم رات کے آخری سہ پہر ہی کو پکارتا ہے اورکبھی آدھی رات کو بھی آواز دے دیتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1317 سے ماخوذ ہے۔