حدیث نمبر: 1316
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُوقِظُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِاللَّيْلِ فَمَا يَجِيءُ السَّحَرُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حِزْبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ رات کو جگا دیتا پھر صبح نہ ہوتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معمول سے فارغ ہو جاتے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب قيام الليل / حدیث: 1316
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, حفص بن غياث عنعن وھو مدلس, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16792) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد پڑھنے کے وقت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ رات کو جگا دیتا پھر صبح نہ ہوتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معمول سے فارغ ہو جاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1316]
1316. اردو حاشیہ: فائدہ: معلوم ہوا کہ ہر ہر فرد کو نیکی کی توفیق اللہ عزوجل ہی کی طرف سے ملتی ہے۔ اور اس سے ہمیشہ یہی دعا کرنی چاہیے جیسا کہ معروف حدیث میں ہے: «رب أعِنِّى على ذكرِكَ وشكرِكَ وحسنِ عبادتِكَ» [سنن نسائی، السهو، حدیث:1304) ’’ا ے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور عمدہ طور سے اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔‘‘
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1316 سے ماخوذ ہے۔