سنن ابي داود
أبواب قيام الليل— ابواب: قیام الیل کے احکام و مسائل
باب نَسْخِ قِيَامِ اللَّيْلِ وَالتَّيْسِيرِ فِيهِ باب: تہجد کی فرضیت کی منسوخی اور اس میں آسانی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1305
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْمَرْوَزِيَّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ كَانُوا يَقُومُونَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى نَزَلَ آخِرُهَا ، وَكَانَ بَيْنَ أَوَّلِهَا وَآخِرِهَا سَنَةٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب سورۃ مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگ رات کو ( نماز میں ) کھڑے رہتے جتنا کہ رمضان میں کھڑے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ سورۃ کا آخری حصہ نازل ہوا ، ان دونوں کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے ۔