حدیث نمبر: 1298
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْأُبُلِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ أَبُو حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يَرَوْنَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتِنِي غَدًا أَحْبُوكَ وَأُثِيبُكَ وَأُعْطِيكَ " حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُعْطِينِي عَطِيَّةً ، قَالَ : " إِذَا زَالَ النَّهَارُ ، فَقُمْ فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ " ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، قَالَ : " ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ ، يَعْنِي مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ ، فَاسْتَوِ جَالِسًا وَلَا تَقُمْ حَتَّى تُسَبِّحَ عَشْرًا ، وَتَحْمَدَ عَشْرًا ، وَتُكَبِّرَ عَشْرًا ، وَتُهَلِّلَ عَشْرًا ، ثُمَّ تَصْنَعَ ذَلِكَ فِي الْأَرْبَعِ رَكَعَاتِ ، قَالَ : فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَعْظَمَ أَهْلِ الْأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَكَ بِذَلِكَ " قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُصَلِّيَهَا تِلْكَ السَّاعَةَ ؟ قَالَ : " صَلِّهَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ خَالُ هِلَالٍ الرَّأْيِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا ، وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ،وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ : فَقَالَ : حَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ` مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تھے ، انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کل تم میرے پاس آنا ، میں تمہیں دوں گا ، عنایت کروں گا اور نوازوں گا “ ، میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے ( جب میں کل پہنچا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہو جاؤ اور چار رکعت نماز ادا کرو “ ، پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے ، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ : ” پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کر لو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہگار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی “ ، میں نے عرض کیا : اگر میں اس وقت یہ نماز ادا نہ کر سکوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو رات یا دن میں کسی وقت ادا کر لو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حبان بن ہلال : ہلال الرای کے ماموں ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ۔ نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے ، عمرو نے ابوالجوزاء سے ابوالجوزاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے ، البتہ راوی نے روح کی روایت میں «فقال حديث عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» ( تو ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی ) کے جملے کا اضافہ کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1298
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عمرو بن مالك النكري يحدث عن أبي الجوزاء عن ابن عباس قدر عشرة أحاديث غير محفوظة،قاله ابن عدي في الكامل (401/1،نسخة أخري: 108/2), والحديث الآتي (الأصل : 1299) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54,
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8606) (حسن صحیح) »