سنن ابي داود
كتاب التطوع— کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام و مسائل
باب صَلاَةِ الضُّحَى باب: نماز الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1294
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ كَثِيرًا " فَكَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سماک کہتے ہیں` میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالست ( ہم نشینی ) کرتے تھے ؟ آپ نے کہا : ہاں اکثر ( آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ نماز فجر ادا کرتے ، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا ، جب سورج نکل آتا تو آپ ( نماز اشراق کے لیے ) کھڑے ہوتے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1294
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (670)
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان۔`
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالست (ہم نشینی) کرتے تھے؟ آپ نے کہا: ہاں اکثر (آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ نماز فجر ادا کرتے، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا، جب سورج نکل آتا تو آپ (نماز اشراق کے لیے) کھڑے ہوتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1294]
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالست (ہم نشینی) کرتے تھے؟ آپ نے کہا: ہاں اکثر (آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ نماز فجر ادا کرتے، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا، جب سورج نکل آتا تو آپ (نماز اشراق کے لیے) کھڑے ہوتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1294]
1294۔ اردو حاشیہ:
یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے اور امام نووی رحمہ اللہ نے اس پر یہ باب درج فرمایا ہے «باب فضل الجلوس فى مصلاه بعد الصبح» مگر اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز اشراق یا چاشت پڑھنے کا بیان نہیں ہے۔
یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے اور امام نووی رحمہ اللہ نے اس پر یہ باب درج فرمایا ہے «باب فضل الجلوس فى مصلاه بعد الصبح» مگر اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز اشراق یا چاشت پڑھنے کا بیان نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1294 سے ماخوذ ہے۔