سنن ابي داود
كتاب التطوع— کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام و مسائل
باب صَلاَةِ الضُّحَى باب: نماز الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ . ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ الْمَعْنَى ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنَ ابْنِ آدَمَ صَدَقَةٌ تَسْلِيمُهُ عَلَى مَنْ لَقِيَ صَدَقَةٌ ، وَأَمْرُهُ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ ، وَنَهْيُهُ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ ، وَإِمَاطَتُهُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ ، وَبُضْعَةُ أَهْلِهِ صَدَقَةٌ ، وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَانِ مِنَ الضُّحَى " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْأَمْرَ وَالنَّهْيَ ، زَادَ فِي حَدِيثِهِ ، وَقَالَ : كَذَا وَكَذَا ، وَزَادَ ابْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدُنَا يَقْضِي شَهْوَتَهُ وَتَكُونُ لَهُ صَدَقَةٌ ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ وَضَعَهَا فِي غَيْرِ حِلِّهَا أَلَمْ يَكُنْ يَأْثَمُ ؟ " .
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی ( بطور شکرانے کے ) ایک صدقہ ہوتا ہے ، اب اگر وہ کسی ملنے والے کو سلام کرے تو یہ ایک صدقہ ہے ، کسی کو بھلائی کا حکم دے تو یہ بھی صدقہ ہے ، برائی سے روکے یہ بھی صدقہ ہے ، راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے ، اپنی بیوی سے صحبت کرے تو یہ بھی صدقہ ہے البتہ ان سب کے بجائے اگر دو رکعت نماز چاشت کے وقت پڑھ لے تو یہ ان سب کی طرف سے کافی ہے ۱؎ ۔“ ابوداؤد کہتے ہیں : عباد کی روایت زیادہ کامل ہے اور مسدد نے امر و نہی کا ذکر نہیں کیا ہے ، ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فلاں اور فلاں چیز بھی صدقہ ہے اور ابن منیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ہم میں سے ایک شخص اپنی ( بیوی سے ) شہوت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ( کیوں نہیں ) اگر وہ کسی حرام جگہ میں شہوت پوری کرتا تو کیا وہ گنہگار نہ ہوتا ۲؎ ؟ ۔“
۲؎: یعنی جب حرام جگہ سے شہوت پوری کرنے پر گنہگار ہو گا تو حلال جگہ سے پوری کرنے پر اجر و ثواب کا مستحق کیوں نہ ہو گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی (بطور شکرانے کے) ایک صدقہ ہوتا ہے، اب اگر وہ کسی ملنے والے کو سلام کرے تو یہ ایک صدقہ ہے، کسی کو بھلائی کا حکم دے تو یہ بھی صدقہ ہے، برائی سے روکے یہ بھی صدقہ ہے، راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے، اپنی بیوی سے صحبت کرے تو یہ بھی صدقہ ہے البتہ ان سب کے بجائے اگر دو رکعت نماز چاشت کے وقت پڑھ لے تو یہ ان سب کی طرف سے کافی ہے ۱؎۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد کی روایت زیادہ کامل ہے اور مسدد نے امر و نہی کا ذکر نہیں کیا ہے، ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فلاں اور فلاں چیز بھی صدقہ ہے اور ابن منیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک شخص اپنی (بیوی سے) شہوت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(کیوں نہیں) اگر وہ کسی حرام جگہ میں شہوت پوری کرتا تو کیا وہ گنہگار نہ ہوتا ۲؎؟۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1285]
سورج طلوع ہوتے ہی جو نماز پڑھی جائے وہ ’’اشراق“ اور جو سورج کے قدرے بلند ہونے پر پڑھی جائے ’’ضحیٰ“ (چاشت) کہلاتی ہے، حقیقت میں یہ ایک ہی نماز ہے، اس کی کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعات ہیں۔
دثور: دثر کی جمع ہے مال کثیر کو کہتے ہیں۔
فوائد ومسائل: شریعت کی مقرر کردہ حددود کے مطابق جو کام بھی کیا جائے بشرطیکہ مقصود شریعت کی پابندی اور اپنے فریضہ کی ادائیگی ہو تو ہر کام اجرو ثواب کا باعث ہے حتی کہ طبعی اور جنسی ضرورت کو پورا کرنا بھی۔
صحیح نیت کی صورت میں ثواب کا باعث ہے جیسا کہ شریعت کی حدود و قیود کو پامال کرنا اور ان کی خلاف ورزی کرنا گناہ اور نقصان کا سبب ہے۔
اس طرح نیکی کا ہر کام اور عمل ذکر واذکار امربالمعروف اور نہی عن المنکر بھی صدقہ ہے یعنی اجرو ثواب کا سبب ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر بالغ انسان کو ہر دن صبح کم ازکم دو رکعات اپنی صحت و سلامتی کے شکرانہ کے طور پر پڑھ لینی چاہئیں تاکہ اللہ تعالیٰ اس کی صحت و سلامتی کو برقرار رکھے اور اس کا ہر عضو اور ہر جوڑ شر وفساد اور توڑ پھوڑ سے محفوظ رہے۔
ابوالاسود الدولی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا: ہر روز صبح ہوتے ہی تم میں سے ہر شخص کے جوڑ پر ایک صدقہ ہے، تو اس کے لیے ہر نماز کے بدلہ ایک صدقہ (کا ثواب) ہے، ہر روزہ کے بدلہ ایک صدقہ (کا ثواب) ہے، ہر حج ایک صدقہ ہے، اور ہر تسبیح ایک صدقہ ہے، ہر تکبیر ایک صدقہ ہے، اور ہر تحمید ایک صدقہ ہے، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک اعمال کا شمار کیا پھر فرمایا: ”ان سب سے تمہیں بس چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1286]
توضیح: یہ دو رکعتیں اس صدقہ لازمہ سے کفایت کرتی ہیں، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ فرائض سے بھی کفایت ہو جاتی ہے۔
«. . . - يصبح على كل سلامى من أحدكم صدقة، فكل تسبيحة صدقة وكل تحميدة صدقة وكل تهليلة صدقة وكل تكبيرة صدقة وأمر بالمعروف صدقة ونهي عن المنكر صدقة، ويجزئ من ذلك ركعتان يركعهما من الضحى . . .»
”. . . سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کے ہر عضو پر صدقہ (واجب) ہے، ہر مرتبہ «سبحان الله» کہنا صدقہ ہے اور ہر مرتبہ «الحمدلله» کہنا صدقہ ہے اور ہر مرتبہ «لا إله إلا الله» کہنا صدقہ ہے اور ہر مرتبہ «الله اكبر» کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور ان سب سے وہ دو رکعتیں کافی ہو جائیں گی جو کوئی شخص چاشت کے وقت ادا کرے گا . . .“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة: 486]
دوسری احادیث میں وضاحت کر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تین سو ساٹھ (360) جوڑ عطا کئے ہیں۔ غور کرنا چاہئے کہ جوڑ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے، اگر ہڈیوں کے جوڑ سلب کر لیے جائیں تو انسان کا جینا دو بھر ہو جائے گا، کھانے پینے کے معاملے میں اس کا انحصار دوسروں پر ہو گا، قضائے حاجت کے معاملہ میں وہ کسی کا محتاج ہو گا، چلن پھرن، اٹھک بیٹھک، غرضیکہ وہ ہر چیز میں دوسروں کی نظر کرم اور دست شفقت کا منتظر ہو گا۔ لیکن کیا ہم ان عظیم نعمتوں کا شکریہ ادا کر رہے ہیں یا دن بدن اللہ تعالیٰ کے مقروض بنتے جا رہے ہیں؟ صرف دو رکعتوں سے 360 جوڑوں کا ٹیکس ادا ہو جاتا ہے۔