حدیث نمبر: 1284
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ، فَقَالَ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا ، وَرَخَّصَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْت يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ هُوَ شُعَيْبٌ يَعْنِي وَهِمَ شُعْبَةُ فِي اسْمِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´طاؤس کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب کے پہلے دو رکعت سنت پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ نماز پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا ، البتہ آپ نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی رخصت دی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے سنا ہے کہ ( ابوشعیب کے بجائے ) وہ شعیب ہے یعنی شعبہ کو ان کے نام میں وہم ہو گیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1284
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7104) (ضعیف) » (صحیحین میں وارد پچھلی حدیث کا معارضہ شعیب یا ابو شعیب جیسے مختلف فیہ راوی کی حدیث سے نہیں کیا جا سکتا)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مغرب سے پہلے سنت پڑھنے کا بیان۔`
طاؤس کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب کے پہلے دو رکعت سنت پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ نماز پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا، البتہ آپ نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی رخصت دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے سنا ہے کہ (ابوشعیب کے بجائے) وہ شعیب ہے یعنی شعبہ کو ان کے نام میں وہم ہو گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1284]
1284۔ اردو حاشیہ:
اس حدیث میں بیان کردہ بشرط صحت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نفی کو ان کی لاعلمی پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ صحیح احادیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مغرب کی اذان کے بعد دو رکعتیں پڑھنا ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1284 سے ماخوذ ہے۔