حدیث نمبر: 1274
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ علِيٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ، سوائے اس کے کہ سورج بلند ہو ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1274
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (574 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1284 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/المواقیت 36 (574)، (تحفة الأشراف: 10310)، وقد أخرجہ: (1/80، 81) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ان لوگوں کی دلیل جنہوں نے سورج بلند ہو تو عصر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کی اجازت دی ہے۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ سورج بلند ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1274]
1274۔ اردو حاشیہ:
یہ رخصت ادا سببی نماز کے لیے ہے، عام نوافل مراد نہیں ہیں۔ جیسے کہ اگلی احادیث میں آ رہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1274 سے ماخوذ ہے۔