حدیث نمبر: 1272
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ترمذی کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعتیں نفل پڑھتے تھے، لیکن تشہد کے ذریعہ فصل کرتے تھے اور سلام ایک ہی ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1272
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن لكن بلفظ أربع ركعات , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1172), صححه النووي في رياض الصالحين (1121 بتحقيقي) ولم أر لمضعفه حجةً قويةً
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10140) (حسن) (لكن بلفظ: ’’أربع ركعات‘‘ كما عند الترمذي في الصلاة 202) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 325

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عصر کے پہلے نفل پڑھنے کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1272]
1272۔ اردو حاشیہ:
یہ سنتیں مستحب ہیں اور سنن راتبہ (مؤکدہ سنتوں) میں شمار نہیں ہوتیں، نیز دو رکعتیں والی روایت چار رکعتوں کے منافی نہیں، بلکہ اس کو کبھی کبھار پر محمول کیا جائے گا یعنی کبھی چار رکعت ادا کی تو کبھی دو رکعت۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [عون المعبود]
شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ روایت ’’چار رکعات کے الفاظ کے ساتھ حسن ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1272 سے ماخوذ ہے۔