حدیث نمبر: 1271
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو الْمُثَنَّى ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ عام نفل نماز میں سے ہے، اس کا شمار سنن رواتب میں نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1271
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1170), أخرجه الترمذي (430 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (1193 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 2 20 (430)، (تحفة الأشراف: 7454)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/117) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 430 | بلوغ المرام: 285

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 430 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´عصر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 430]
اردو حاشہ:
1؎:
نماز عصر سے پہلے یہ چار رکعتیں سنن رواتب (سنن مؤکدہ) میں سے نہیں ہیں، بلکہ سنن غیر مؤکدہ میں سے ہیں، تاہم ان کے پڑھنے والے کے لیے نبی اکرم ﷺ کے رحمت کی دعا کرنے سے ان کی اہمیت واضح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 430 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 285 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نفل نماز کا بیان`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے نماز عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔
اسے احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور ابن خزیمہ نے اس کو صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 285»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الصلاة قبل العصر، حديث:1271، والترمذي، الصلاة، حديث:430، وأحمد:2 /117، وابن خزيمة:2 /206، حديث:1193.»
تشریح: نماز عصر سے پہلے یہ چار رکعتیں سنن رواتب (مؤکدہ سنتیں) تو نہیں لیکن ہیں بہت زیادہ فضیلت کی حامل۔
ان چار رکعتوں کا اہتمام کرنے والے شخص کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعائیہ کلمات رَحِمَ اللّٰـہُ امْرَأً ہی ان رکعتوں کی بہت زیادہ فضیلت پر دلالت کرتے ہیں‘ یعنی جو شخص یہ چار رکعتیں پڑھے اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 285 سے ماخوذ ہے۔