حدیث نمبر: 1270
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ مِنْجَابَ ، عَنْ قَرْثَعٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ لَيْسَ فِيهِنَّ تَسْلِيمٌ تُفْتَحُ لَهُنَّ أَبْوَابُ السَّمَاءِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : بَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، قَالَ : لَوْ حَدَّثْتُ عَنْ عُبَيْدَةَ بِشَيْءٍ لَحَدَّثْتُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : عُبَيْدَةُ ضَعِيفٌ . قَالَ أَبُو دَاوُد : ابْنُ مِنْجَابٍ هُوَ سَهْمٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ظہر کے پہلے کی چار رکعتیں ، جن کے درمیان سلام نہیں ہے ، ایسی ہیں کہ ان کے واسطے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے یحییٰ بن سعید قطان کی یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے کہا : اگر میں عبیدہ سے کچھ روایت کرتا تو ان سے یہی حدیث روایت کرتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : لیکن عبیدہ ضعیف ہیں ، اور ابن منجاب کا نام سہم ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1270
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (1157) مختصرًا بإختلاف في السند, عبيدة بن معتب ضعيف كما قال أبو داود وقال ابن حجر في التقريب (4416):’’ ضعيف واختلط بأخرة ‘‘ إلخ, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53,
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 105 (1157)، سنن الترمذی/ الشمائل (293، 2494)، (تحفة الأشراف: 3485)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/416، 417، 420) (ضعیف) » (اس کے راوی عبیدہ بن متعب ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: تراجع الألباني 125).
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مسند الحميدي: 389

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ظہر سے پہلے اور اس کے بعد کی چار رکعت سنت کا بیان۔`
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کے پہلے کی چار رکعتیں، جن کے درمیان سلام نہیں ہے، ایسی ہیں کہ ان کے واسطے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن سعید قطان کی یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے کہا: اگر میں عبیدہ سے کچھ روایت کرتا تو ان سے یہی حدیث روایت کرتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لیکن عبیدہ ضعیف ہیں، اور ابن منجاب کا نام سہم ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1270]
1270. اردو حاشیہ:
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ’’حسن‘‘ کہا ہے، جبکہ آئندہ حدیث [1295]، ان کے نزدیک ’’صحیح‘‘ ہے۔ جس میں ہے کہ دن اور رات کے نفل دو دو رکعت ہیں، اس لیے سنتوں اور نوافل کو دو دو کر کے ہی پڑھنا راجح اور افضل ہے۔ تاہم ایک سلام سے چار رکعت پڑھ لینا بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1270 سے ماخوذ ہے۔