سنن ابي داود
كتاب التطوع— کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام و مسائل
باب مَنْ فَاتَتْهُ مَتَى يَقْضِيهَا باب: جس کی فجر کی سنتیں چھوٹ گئی ہوں تو ان کو کب پڑھے؟
حدیث نمبر: 1267
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الصُّبْحِ رَكْعَتَانِ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ ، " فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز فجر ختم ہو جانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فجر دو ہی رکعت ہے “ ، اس شخص نے جواب دیا : میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں ، وہ اب پڑھی ہیں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جس کی فجر کی سنتیں چھوٹ گئی ہوں تو ان کو کب پڑھے؟`
قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز فجر ختم ہو جانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر دو ہی رکعت ہے“، اس شخص نے جواب دیا: میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں، وہ اب پڑھی ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1267]
قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز فجر ختم ہو جانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر دو ہی رکعت ہے“، اس شخص نے جواب دیا: میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں، وہ اب پڑھی ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1267]
1267۔ اردو حاشیہ:
➊ سنتیں رہ جائیں تو بعد میں پڑھنا افضل ہے بالخصوص فجر کی سنتیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سفر میں بھی نہیں چھوڑتے تھے۔
➋ فجر کی سنتیں فرضوں کے بعد ادا کر نا جائز ہے اور وہ حدیث جس میں ہے کہ ’’نماز فجر کے بعد نماز نہیں۔“ اس سے مراد عام نوافل ہیں نہ کہ اس قسم کی نماز جو کسی سبب سے پڑھی جا رہی ہو۔
➌ اگر یقین ہو کہ طلوع شمس کے انتظار میں یہ فوت نہیں ہو جائیں گی تو مؤخر کر لے۔ اسی طرح اس حدیث پر عمل ہو جائے گا کہ ”نماز فجر کے بعد نماز نہیں۔“
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کو دیکھ یا سن کر خاموش رہنا اس کی توثیق کی دلیل سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس حدیث سے یہ استدلال بالکل صحیح ہے کہ جو شخص فجر کی دو سنتیں فجر کی نماز سے پہلے نہیں پڑھ سکا وہ فرضوں کے بعد پڑھ سکتا ہے۔
➊ سنتیں رہ جائیں تو بعد میں پڑھنا افضل ہے بالخصوص فجر کی سنتیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سفر میں بھی نہیں چھوڑتے تھے۔
➋ فجر کی سنتیں فرضوں کے بعد ادا کر نا جائز ہے اور وہ حدیث جس میں ہے کہ ’’نماز فجر کے بعد نماز نہیں۔“ اس سے مراد عام نوافل ہیں نہ کہ اس قسم کی نماز جو کسی سبب سے پڑھی جا رہی ہو۔
➌ اگر یقین ہو کہ طلوع شمس کے انتظار میں یہ فوت نہیں ہو جائیں گی تو مؤخر کر لے۔ اسی طرح اس حدیث پر عمل ہو جائے گا کہ ”نماز فجر کے بعد نماز نہیں۔“
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کو دیکھ یا سن کر خاموش رہنا اس کی توثیق کی دلیل سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس حدیث سے یہ استدلال بالکل صحیح ہے کہ جو شخص فجر کی دو سنتیں فجر کی نماز سے پہلے نہیں پڑھ سکا وہ فرضوں کے بعد پڑھ سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1267 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 422 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´فجر سے پہلے کی دونوں سنتیں چھوٹ جائیں تو انہیں نماز فجر کے بعد پڑھنے کا بیان۔`
قیس (قیس بن عمرو بن سہل) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور جماعت کے لیے اقامت کہہ دی گئی، تو میں نے آپ کے ساتھ فجر پڑھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے تو مجھے دیکھا کہ میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں، تو آپ نے فرمایا: ” قیس ذرا ٹھہرو، کیا دو نمازیں ایک ساتھ ۱؎ (پڑھنے جا رہے ہو؟) “ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے فجر کی دونوں سنتیں نہیں پڑھی تھیں۔ آپ نے فرمایا: ” تب کوئی حرج نہیں “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 422]
قیس (قیس بن عمرو بن سہل) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور جماعت کے لیے اقامت کہہ دی گئی، تو میں نے آپ کے ساتھ فجر پڑھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے تو مجھے دیکھا کہ میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں، تو آپ نے فرمایا: ” قیس ذرا ٹھہرو، کیا دو نمازیں ایک ساتھ ۱؎ (پڑھنے جا رہے ہو؟) “ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے فجر کی دونوں سنتیں نہیں پڑھی تھیں۔ آپ نے فرمایا: ” تب کوئی حرج نہیں “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 422]
اردو حاشہ:
1؎:
مطلب یہ ہے کہ: فجر کی فرض کے بعد کوئی سنت نفل تو ہے نہیں، تو یہی سمجھا جائیگا کہ تم فجر کے فرض کے بعد کوئی فرض ہی پڑھنے جا رہے ہو۔
2؎:
یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نمازِ فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھنا جائز ہے، اور امام ترمذی نے جو اس روایت کو مرسل اور منقطع کہا ہے وہ صحیح نہیں، کیونکہ یحییٰ بن سعید کے طریق سے یہ روایت متصلاً بھی مروی ہے، جس کی تخریج ابن خزیمہ نے کی ہے اور ابن خزیمہ کے واسطے سے ابن حبان نے بھی کی ہے، نیز انہوں نے اس کے علاوہ طریق سے بھی کی ہے۔
1؎:
مطلب یہ ہے کہ: فجر کی فرض کے بعد کوئی سنت نفل تو ہے نہیں، تو یہی سمجھا جائیگا کہ تم فجر کے فرض کے بعد کوئی فرض ہی پڑھنے جا رہے ہو۔
2؎:
یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نمازِ فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھنا جائز ہے، اور امام ترمذی نے جو اس روایت کو مرسل اور منقطع کہا ہے وہ صحیح نہیں، کیونکہ یحییٰ بن سعید کے طریق سے یہ روایت متصلاً بھی مروی ہے، جس کی تخریج ابن خزیمہ نے کی ہے اور ابن خزیمہ کے واسطے سے ابن حبان نے بھی کی ہے، نیز انہوں نے اس کے علاوہ طریق سے بھی کی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 422 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 422 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
جس کی صبح کی دو سنتیں رہ جائیں
صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ جس کی صبح کی دو سنتیں رہ جائیں اور وہ فرض نماز کے بعد فور اً پڑھ لے، تو جائز ہے۔
دیکھئے: [صحيح ابن خزيمه ج2 ص164 ح1116
صحيح ابن حبان الاحسان: 2462 اور المستدرك للحاكم 274/1۔ 275 ح1017]
اسے حاکم اور ذہبی نے بھی صحیح کہا ہے
اور اس روایت پر ابن عبدالبر کی جرح مردود ہے۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ جس کی صبح کی دو سنتیں رہ جائیں اور وہ فرض نماز کے بعد فور اً پڑھ لے، تو جائز ہے۔
دیکھئے: [صحيح ابن خزيمه ج2 ص164 ح1116
صحيح ابن حبان الاحسان: 2462 اور المستدرك للحاكم 274/1۔ 275 ح1017]
اسے حاکم اور ذہبی نے بھی صحیح کہا ہے
اور اس روایت پر ابن عبدالبر کی جرح مردود ہے۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
درج بالا اقتباس فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1154 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھی ہو تو اس سے کب پڑھے؟`
قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز فجر کے بعد دو رکعت پڑھ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا نماز فجر دو بار پڑھ رہے ہو؟ “، اس شخص نے کہا: میں نماز فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھ سکا تھا، تو میں نے اب ان کو پڑھ لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1154]
قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز فجر کے بعد دو رکعت پڑھ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا نماز فجر دو بار پڑھ رہے ہو؟ “، اس شخص نے کہا: میں نماز فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھ سکا تھا، تو میں نے اب ان کو پڑھ لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1154]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز پڑھنے والے یہ صحابی خود حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
اپنا نام لیے بغیر واقعہ بیان فرمایا ہے۔
جامع ترمذی کی روایت میں انھوں نے بیان کیا ہے کہ یہ خود ان کا واقعہ ہے۔ (جامع الترمذي، الصلاۃ، باب ماجاء فیمن تفوته الرکعتان قبل الفجر یصلیھا بعد صلاۃ الصبح، حدیث: 422)
(2)
جو کام بظاہرغلط ہو۔
اس پر ناراضی کا اظہار کرنے سے پہلے وضاحت طلب کرلینا مناسب ہے۔
تاکہ اگر وضاحت قابل قبول ہوتو فہمائش کی ضرورت پیش نہ آئے۔
(3)
رسول اللہﷺ کا خاموش ہوجانا اس کام کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔
ایسے امور جو رسول اللہ ﷺ کے علم میں آئے۔
اور آپ نے ان سے منع نہیں فرمایا۔
سب جائز ہیں۔
انھیں ''تقریری سنت''کہا جاتاہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
نماز پڑھنے والے یہ صحابی خود حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
اپنا نام لیے بغیر واقعہ بیان فرمایا ہے۔
جامع ترمذی کی روایت میں انھوں نے بیان کیا ہے کہ یہ خود ان کا واقعہ ہے۔ (جامع الترمذي، الصلاۃ، باب ماجاء فیمن تفوته الرکعتان قبل الفجر یصلیھا بعد صلاۃ الصبح، حدیث: 422)
(2)
جو کام بظاہرغلط ہو۔
اس پر ناراضی کا اظہار کرنے سے پہلے وضاحت طلب کرلینا مناسب ہے۔
تاکہ اگر وضاحت قابل قبول ہوتو فہمائش کی ضرورت پیش نہ آئے۔
(3)
رسول اللہﷺ کا خاموش ہوجانا اس کام کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔
ایسے امور جو رسول اللہ ﷺ کے علم میں آئے۔
اور آپ نے ان سے منع نہیں فرمایا۔
سب جائز ہیں۔
انھیں ''تقریری سنت''کہا جاتاہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1154 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 892 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
892- سیدنا قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا میں صبح کی نماز کے بعد دورکعات ادا کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے قیس! یہ کو ن سی دو رکعات ہیں؟“ میں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں فجر کی دورکعات (سنت ادا نہیں کرسکا تھا) تو یہ وہی دورکعات ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ سفیان کہتے ہیں: عطاء بن ابی رباح اس حدیث کو سعد بن سعید کے حوالے سے روایت کرتے ہیں۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:892]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز فجر کے بعد دو رکعتیں (جو پہلے پڑھنی تھیں) پڑھی جا سکتی ہیں، وہ رکعات جو کسی بھی نماز سے پہلے کی ہوں، اگر کسی وجہ سے پہلے نہ پڑھی جا سکیں تو ان کو فرض نماز کے بعد پڑھا جا سکتا ہے، مثلا اگر نماز ظہر کی پہلی چار رکعات رہ جائیں تو وہ فرض نماز کے بعد پڑھنا درست ہے۔ بعض لوگوں کا نماز فجر کے بعد سنتیں پڑھنے سے منع کرنا درست نہیں ہے، دین اسلام جس چیز کی اجازت دے، اس کی ہمیں بھی اجازت دینی چاہیے، ورنہ سراسر گمراہی ہے، حدیث تقریری شریعت کا حصہ ہے، اور حجت ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز فجر کے بعد دو رکعتیں (جو پہلے پڑھنی تھیں) پڑھی جا سکتی ہیں، وہ رکعات جو کسی بھی نماز سے پہلے کی ہوں، اگر کسی وجہ سے پہلے نہ پڑھی جا سکیں تو ان کو فرض نماز کے بعد پڑھا جا سکتا ہے، مثلا اگر نماز ظہر کی پہلی چار رکعات رہ جائیں تو وہ فرض نماز کے بعد پڑھنا درست ہے۔ بعض لوگوں کا نماز فجر کے بعد سنتیں پڑھنے سے منع کرنا درست نہیں ہے، دین اسلام جس چیز کی اجازت دے، اس کی ہمیں بھی اجازت دینی چاہیے، ورنہ سراسر گمراہی ہے، حدیث تقریری شریعت کا حصہ ہے، اور حجت ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 891 سے ماخوذ ہے۔