حدیث نمبر: 1260
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا سورة آل عمران آية 84 فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ، وَفِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى بِهَذِهِ الْآيَةِ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ سورة آل عمران آية 53 أَوْ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ سورة البقرة آية 119 " . شَكَّ الدَّارَوَرْدِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے سنا ، پہلی رکعت میں آپ «قل آمنا بالله وما أنزل علينا» ۱؎ اور دوسری رکعت میں «ربنا آمنا بما أنزلت واتبعنا الرسول فاكتبنا مع الشاهدين» ۲؎ یا «إنا أرسلناك بالحق بشيرا ونذيرا ولا تسأل عن أصحاب الجحيم» ۳؎ پڑھ رہے تھے اس میں دراوردی کو شک ہوا ہے ۔

وضاحت:
وضاحت: سورة آل عمران: (۸۴) وضاحت: سورة آل عمران: (۵۳) وضاحت: سورة البقرة: (۱۱۹)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1260
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن وأخرجه البيهقي دون قوله أو إنا أرسلناك , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عثمان بن عمر بن موسي قاضي مشهور وثقه ابن حبان وحده وجھله ابن معين وغيره فھو مجھول الحال, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53,
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12926) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´فجر کی سنتوں کو ہلکی پڑھنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے سنا، پہلی رکعت میں آپ «قل آمنا بالله وما أنزل علينا» ۱؎ اور دوسری رکعت میں «ربنا آمنا بما أنزلت واتبعنا الرسول فاكتبنا مع الشاهدين» ۲؎ یا «إنا أرسلناك بالحق بشيرا ونذيرا ولا تسأل عن أصحاب الجحيم» ۳؎ پڑھ رہے تھے اس میں دراوردی کو شک ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1260]
1260۔ اردو حاشیہ:
نماز میں قرأت کرتے ہوئے اگر منتخب آیات یا سورتیں معروف ترتیب سے آگے پیچھے ہو جائیں، تو کوئی حرج نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1260 سے ماخوذ ہے۔