سنن ابي داود
كتاب التطوع— کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام و مسائل
باب فِي تَخْفِيفِهِمَا باب: فجر کی سنتوں کو ہلکی پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1258
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ ، عَنْ ابْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ سَيْلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدَعُوهُمَا وَإِنْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان دونوں رکعتوں کو مت چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´فجر کی سنتوں کو ہلکی پڑھنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم ان دونوں رکعتوں کو مت چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں۔" [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1258]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم ان دونوں رکعتوں کو مت چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں۔" [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1258]
1258۔ اردو حاشیہ:
یہ حدیث ضعیف ہے، البتہ دیگر احادیث سے صبح کی سنتوں کی اہمیت واضح ہے اور ان کا حکم دیگر سنتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تاکیدی ہے۔
یہ حدیث ضعیف ہے، البتہ دیگر احادیث سے صبح کی سنتوں کی اہمیت واضح ہے اور ان کا حکم دیگر سنتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تاکیدی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1258 سے ماخوذ ہے۔