سنن ابي داود
كتاب صلاة السفر— کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل
باب صَلاَةِ الطَّالِبِ باب: تعاقب کرنے والے کی نماز کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ،عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَالِدِ بْنِ سُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ وَكَانَ نَحْوَ عُرَنَةَ ، وَعَرَفَاتٍ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ " ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ وَحَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، فَقُلْتُ : إِنِّي لأَخَافُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا إِنْ أُؤَخِّرِ الصَّلَاةَ ، فَانْطَلَقْتُ أَمْشِي وَأَنَا أُصَلِّي أُومِئُ إِيمَاءً نَحْوَهُ ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ ، قَالَ لِي : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَجْمَعُ لِهَذَا الرَّجُلِ فَجِئْتُكَ فِي ذَاكَ ، قَالَ : إِنِّي لَفِي ذَاكَ ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي عَلَوْتُهُ بِسَيْفِي حَتَّى بَرَدَ .
´عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان ہذلی کی طرف بھیجا اور وہ عرنہ و عرفات کی جانب تھا تو فرمایا : ” جاؤ اور اسے قتل کر دو “ ، عبداللہ کہتے ہیں : میں نے اسے دیکھ لیا عصر کا وقت ہو گیا تھا تو میں نے ( اپنے جی میں ) کہا اگر میں رک کر نماز میں لگتا ہوں تو اس کے اور میرے درمیان فاصلہ ہو جائے گا ، چنانچہ میں اشاروں سے نماز پڑھتے ہوئے مسلسل اس کی جانب چلتا رہا ، جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھ سے پوچھا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : عرب کا ایک شخص ، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلے ) کے لیے تم ( لوگوں کو ) جمع کر رہے ہو ۱؎ تو میں اسی سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں ، اس نے کہا : ہاں میں اسی کوشش میں ہوں ، چنانچہ میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ چلتا رہا ، جب مجھے مناسب موقع مل گیا تو میں نے اس پر تلوار سے وار کر دیا اور وہ ٹھنڈا ہو گیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان ہذلی کی طرف بھیجا اور وہ عرنہ و عرفات کی جانب تھا تو فرمایا: ”جاؤ اور اسے قتل کر دو“، عبداللہ کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھ لیا عصر کا وقت ہو گیا تھا تو میں نے (اپنے جی میں) کہا اگر میں رک کر نماز میں لگتا ہوں تو اس کے اور میرے درمیان فاصلہ ہو جائے گا، چنانچہ میں اشاروں سے نماز پڑھتے ہوئے مسلسل اس کی جانب چلتا رہا، جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: عرب کا ایک شخص، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس شخص (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلے) کے لیے تم (لوگوں کو) جمع کر رہے ہو ۱؎ تو میں اسی سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں، اس نے کہا: ہاں میں اسی کوشش میں ہوں، چنانچہ میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ چلتا رہا، جب مجھے مناسب موقع مل گیا تو میں نے اس پر تلوار سے وار کر دیا اور وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر /حدیث: 1249]
➊ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ دیکھیے: [كتاب الخوف، باب صلاة الطالب والمطلوب راكبا وايماء]
اور اس سے معلوم ہوا کہ دوران جنگ میں اگر صورت حال سنگین ہو جائے اور نماز کے لئے جمع ہونے کی مذکورہ بالا کوئی بھی صورت ممکن نہ ہو تو مجاہدین اشارے سے نماز پڑھ سکتے ہیں۔
➋ جنگ میں دشمن کے سامنے حیلہ اور توریہ سے کام لینا جائز ہے، یہ جھوٹ کی ذیل میں نہیں آتا۔