سنن ابي داود
كتاب صلاة السفر— کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل
باب مَتَى يُتِمُّ الْمُسَافِرُ باب: مسافر پوری نماز کب پڑھے؟
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ الْمُثَنَّى وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : ابْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " كَانَ إِذَا سَافَرَ سَارَ بَعْدَ مَا تَغْرُبُ الشَّمْسُ حَتَّى تَكَادَ أَنْ تُظْلِمَ ، ثُمَّ يَنْزِلُ فَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ يَدْعُوا بِعَشَائِهِ فَيَتَعَشَّى ، ثُمَّ يُصَلِّي الْعِشَاءَ ، ثُمَّ يَرْتَحِلُ ، وَيَقُولُ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ " . قَالَ عُثْمَانُ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، سَمِعْت أَبَا دَاوُد ، يَقُولُ : وَرَوَى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَنَسًا " كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ ، وَيَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ " ، وَرِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلُهُ .
´عمر بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ` علی رضی اللہ عنہ جب سفر کرتے تو سورج ڈوبنے کے بعد بھی چلتے رہتے یہاں تک کہ اندھیرا چھا جانے کے قریب ہو جاتا ، پھر آپ اترتے اور مغرب پڑھتے ۔ پھر شام کا کھانا طلب کرتے اور کھا کر عشاء ادا کرتے ۔ پھر کوچ فرماتے اور کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ عثمان کی روایت میں «أخبرني عبدالله بن محمد بن عمر بن علي» کے بجائے «عن عبدالله بن محمد بن عمر بن علي» ہے ۔ ( ابوعلی لولؤی کہتے ہیں ) میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ اسامہ بن زید نے حفص بن عبیداللہ ( بن انس بن مالک ) سے روایت کی ہے کہ انس رضی اللہ عنہ جب شفق غائب ہو جاتی تو دونوں ( مغرب اور عشاء ) کو جمع کرتے اور کہتے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ زہری نے انس رضی اللہ عنہ سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے ۔