حدیث نمبر: 1228
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا :هَلْ رُخِّصَ لِلنِّسَاءِ أَنْ يُصَلِّينَ عَلَى الدَّوَابِّ ؟ قَالَتْ : لَمْ يُرَخَّصْ لَهُنَّ فِي ذَلِكَ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ . قَالَ مُحَمَّدٌ : هَذَا فِي الْمَكْتُوبَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عطا بن ابی رباح کہتے ہیں کہ` انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا عورتوں کو چوپایوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے ؟ آپ نے کہا : مشکل میں ہوں یا سہولت میں ، انہیں کسی حالت میں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں : یہ بات فرض نماز کے سلسلے میں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة السفر / حدیث: 1228
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, أخرجه البيھقي (2/7) النعمان بن المنذر سمعه من سليمان بن موسيٰ انظر تحفة الأشراف (2/241) وسليمان بن موسيٰ سمعه من عطاء بن أبي رباح، فالسند حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17394) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عذر کی وجہ سے فرض نماز سواری پر پڑھنے کا بیان۔`
عطا بن ابی رباح کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا عورتوں کو چوپایوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے؟ آپ نے کہا: مشکل میں ہوں یا سہولت میں، انہیں کسی حالت میں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں: یہ بات فرض نماز کے سلسلے میں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر /حدیث: 1228]
1228۔ اردو حاشیہ:
جامع ترمذی، باب ماجاء في الصلوة علیٰ الدابة في الطین والمطر۔ حدیث [411] کے ذیل میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کیچڑ کے باعث اپنی سواری پر نماز ادا کی تھی اور کئی ایک علماء اس کے قائل ہیں۔ امام احمد و اسحاق رحمها اللہ کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ شرعی عذر کی صورت میں سواری پر نماز جائز ہے۔ اس بارے میں مرفوع حدیث ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1228 سے ماخوذ ہے۔