سنن ابي داود
كتاب صلاة السفر— کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل
باب التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ باب: سفر میں نفل پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ ، قَالَ : فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ ، فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا ، فَقَالَ : مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ ؟ قُلْتُ : يُسَبِّحُونَ ، قَالَ : لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي ، يَا ابْنَ أَخِي ، إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ " فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَصَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى ، وَصَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 .
´حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ` میں ایک سفر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا تو آپ نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ( نماز کی حالت میں ) کھڑے ہیں ، پوچھا : یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا : یہ نفل پڑھ رہے ہیں ، تو آپ نے کہا : بھتیجے ! اگر مجھے نفل ۱؎ پڑھنی ہوتی تو میں اپنی نماز ہی پوری پڑھتا ، میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا لیکن آپ نے دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی ، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی ، اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی ، مجھے ( سفر میں ) عثمان رضی اللہ عنہ کی رفاقت بھی ملی لیکن انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی ، اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے : «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» ” تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا تو آپ نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ (نماز کی حالت میں) کھڑے ہیں، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ نفل پڑھ رہے ہیں، تو آپ نے کہا: بھتیجے! اگر مجھے نفل ۱؎ پڑھنی ہوتی تو میں اپنی نماز ہی پوری پڑھتا، میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا لیکن آپ نے دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، مجھے (سفر میں) عثمان رضی اللہ عنہ کی رفاقت بھی ملی لیکن انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے: «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» ”تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر /حدیث: 1223]
سفر میں فرائض سے پہلے یا بعد ”سنن راتبہ“ بحثیت ”سنن موکدہ“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور خلفائے راشدین کے عمل سے ثابت نہیں ہیں، سوائے فجر کی سنتوں کے۔ علاوہ ازیں اگر کوئی عام نفل کی حیثیت سے پڑھنا چاہے تو ممنوع نہیں ہے، جیسے کہ اگے باب کی احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوران سفر میں اپنی سواری پر بھی نوافل پڑھا کرتے تھے۔ اس مسئلے کا تعلق انسان کے اپنے شوق سے ہے۔
یہ باب مع ان احادیث کے پیچھے بھی گذر چکا ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے چھٹے سال منیٰ میں نماز پوری پڑھی، لیکن دوسرے صحابہ نے ان کا یہ فعل خلافت سنت سمجھا۔
حضرت عثمان ؓ کے پوری پڑھنے کی بہت سی وجوہ بیان کی گئی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ آپ سفر میں قصر کرنا اور پوری نماز پڑھنا ہر دو امر جائز جانتے تھے، اس لیے آپ نے جواز پر عمل کیا۔
منیٰ کی وجہ تسمیہ اور اس کا پورا بیان پہلے گذر چکا ہے۔
(1)
یہ عنوان اور اس میں ذکر کردہ تینوں احادیث کتاب تقصیر الصلاۃ میں گزر چکی ہیں۔
امام بخاری ؒ نے استاد کی تبدیلی کے ساتھ یہاں بیان فرمایا ہے۔
(2)
حضرت عثمان ؓ نے اپنی خلافت کے چھٹے سال منیٰ میں نماز پوری پڑھنا شروع کر دی۔
اس کی وجوہات ہم پہلے بیان کر آئے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے نزدیک سفر میں قصر کرنا اور پوری نماز ادا کرنا دونوں امر جائز تھے، اس لیے انہوں نے کسی مصلحت کے پیش نظر جواز پر عمل کیا۔
اگرچہ کچھ صحابہ کرام ؓ نے ان کے اس عمل سے اختلاف کیا جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سرفہرست ہیں۔
بہرحال حجاج کرام کو چاہیے کہ دوران حج منیٰ میں ظہر، عصر اور عشاء کی نمازیں قصر پڑھیں، البتہ نماز فجر اور نماز مغرب پوری ادا کریں، تاہم مغرب کی سنتیں ادا نہیں کی جائیں گی۔