سنن ابي داود
كتاب صلاة السفر— کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل
باب التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ باب: سفر میں نفل پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1222
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي بُسْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا " فَمَا رَأَيْتُهُ تَرَكَ رَكْعَتَيْنِ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ سفروں میں رہا ، لیکن میں نے نہیں دیکھا کہ سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے آپ نے دو رکعتیں ترک کی ہوں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 550 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سفر میں نفل پڑھنے کا بیان۔`
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ مہینے رہا۔ لیکن میں نے سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے کی دونوں رکعتیں کبھی بھی آپ کو چھوڑتے نہیں دیکھا۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 550]
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ مہینے رہا۔ لیکن میں نے سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے کی دونوں رکعتیں کبھی بھی آپ کو چھوڑتے نہیں دیکھا۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 550]
اردو حاشہ:
1؎:
دیگر سارے لوگوں نے ان کو مجہول قرار دیا ہے، اور مجہول کی روایت ضعیف ہوتی ہے۔
2؎ یہ صحیح بخاری کی روایت ہے۔
3؎:
اس بابت سب سے صحیح اور واضح حدیث ابن عمر کی ہے، جو رقم 544 پر گزری، ابن عمر رضی اللہ عنہما کی دلیل نقلی بھی ہے اور عقلی بھی کہ ایک تو رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سنت راتبہ نہیں پڑھتے تھے، دوسرے اگر سنت راتبہ پڑھنی ہوتی تو اصل فرض میں کمی کرنے کا جو مقصد ہے وہ فوت ہو جاتا، اگر سنت راتبہ پڑھنی ہو تو فرائض میں کمی کا کیا معنی؟ رہی آپ ﷺ کے بعض اسفار میں چاشت وغیرہ پڑھنے کی بات، تو بوقت فرصت عام نوافل کے سب قائل ہیں۔
4؎:
عام نوافل پڑھنے کے تو سب قائل ہیں مگر سنن راتبہ والی احادیث سنداً کمزور ہیں۔
نوٹ:
(اس کے راوی ’’ابوبُسرہ الغفاری‘‘ لین الحدیث ہیں)
1؎:
دیگر سارے لوگوں نے ان کو مجہول قرار دیا ہے، اور مجہول کی روایت ضعیف ہوتی ہے۔
2؎ یہ صحیح بخاری کی روایت ہے۔
3؎:
اس بابت سب سے صحیح اور واضح حدیث ابن عمر کی ہے، جو رقم 544 پر گزری، ابن عمر رضی اللہ عنہما کی دلیل نقلی بھی ہے اور عقلی بھی کہ ایک تو رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سنت راتبہ نہیں پڑھتے تھے، دوسرے اگر سنت راتبہ پڑھنی ہوتی تو اصل فرض میں کمی کرنے کا جو مقصد ہے وہ فوت ہو جاتا، اگر سنت راتبہ پڑھنی ہو تو فرائض میں کمی کا کیا معنی؟ رہی آپ ﷺ کے بعض اسفار میں چاشت وغیرہ پڑھنے کی بات، تو بوقت فرصت عام نوافل کے سب قائل ہیں۔
4؎:
عام نوافل پڑھنے کے تو سب قائل ہیں مگر سنن راتبہ والی احادیث سنداً کمزور ہیں۔
نوٹ:
(اس کے راوی ’’ابوبُسرہ الغفاری‘‘ لین الحدیث ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 550 سے ماخوذ ہے۔