حدیث نمبر: 1205
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضَبَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ ؟ قَالَ : وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مقام پر قیام فرماتے تو ظہر پڑھ کر ہی کوچ فرماتے ، تو ایک شخص نے ان سے کہا : گرچہ نصف النہار ہوتا ؟ انہوں نے کہا : اگرچہ نصف النہار ہوتا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة السفر / حدیث: 1205
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (499 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/المواقیت 2 (499)، (تحفة الأشراف: 555)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/120، 129) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 499

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مسافر کو شک ہو کہ نماز کا وقت ہوا یا نہیں پھر وہ نماز پڑھ لے تو یہ جائز ہے۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مقام پر قیام فرماتے تو ظہر پڑھ کر ہی کوچ فرماتے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: گرچہ نصف النہار ہوتا؟ انہوں نے کہا: اگرچہ نصف النہار ہوتا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر /حدیث: 1205]
1205۔ اردو حاشیہ:
یہ اس صورت میں ہوتا جب زوال سے پہلے کوچ نہ کیا ہوتا، اگر زوال سے پہلے ہی سفر میں چل پڑتے، تو ظہر کو موخر کر کے عصر کے ساتھ اکھٹا کر کے پڑھتے تھے۔ علاوہ ازیں اس حدیث کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ نصف النہار (ذوال) سے قبل ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھ لیتے تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ زوال کے ہوتے ہی فوراً ظہر کی نماز ادا کر لیتے اور پھر سفر شروع کرتے کیونکہ زوال سے قبل تو ظہر کا وقت ہی نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1205 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 499 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سفر میں ظہر جلدی پڑھنے کا بیان۔`
حمزہ عائذی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ظہر سے پہلے) جب کسی جگہ اترتے ۱؎ تو جب تک ظہر نہ پڑھ لیتے وہاں سے کوچ نہیں کرتے، اس پر ایک آدمی نے کہا: اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی؟ انہوں نے کہا: اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 499]
499۔ اردو حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ سورج ڈھلتے ہی نماز ظہر پڑھ لیتے تھے۔ عرف عام میں اسے بھی سورج سر پر ہونے ہی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 499 سے ماخوذ ہے۔