سنن ابي داود
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب: نماز استسقاء کے احکام ومسائل
باب مَنْ قَالَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ باب: نماز کسوف میں چار رکوع کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1182
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ بْنِ خَالِدٍ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَحُدِّثْتُ عَنْ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، وَهَذَا لَفْظُهُ وَهُوَ أَتَمُّ ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِهِمْ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ مِنْ الطُّوَر وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَرَأَ سُورَةً مِنْ الطُّوَرِ وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتَّى انْجَلَى كُسُوفُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( دو رکعت ) پڑھائی تو آپ نے لمبی سورتوں میں سے ایک سورۃ کی قرآت کی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے ، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اس میں بھی لمبی سورتوں میں سے ایک سورت کی قرآت فرمائی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے ، پھر قبلہ رخ بیٹھے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ گرہن چھٹ گیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز کسوف میں چار رکوع کے قائلین کی دلیل کا بیان۔`
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (دو رکعت) پڑھائی تو آپ نے لمبی سورتوں میں سے ایک سورۃ کی قرآت کی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اس میں بھی لمبی سورتوں میں سے ایک سورت کی قرآت فرمائی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر قبلہ رخ بیٹھے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ گرہن چھٹ گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1182]
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (دو رکعت) پڑھائی تو آپ نے لمبی سورتوں میں سے ایک سورۃ کی قرآت کی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اس میں بھی لمبی سورتوں میں سے ایک سورت کی قرآت فرمائی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر قبلہ رخ بیٹھے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ گرہن چھٹ گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1182]
1182۔ اردو حاشیہ:
اس حدیث میں پانچ رکوع کا ذکر ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
اس حدیث میں پانچ رکوع کا ذکر ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1182 سے ماخوذ ہے۔