سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ وَيَرْجِعُ فِي طَرِيقٍ باب: عید کے لیے ایک راستے سے جائے اور دوسرے سے واپس آئے۔
حدیث نمبر: 1156
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَذَ يَوْمَ الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ ، ثُمَّ رَجَعَ فِي طَرِيقٍ آخَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستے سے گئے پھر دوسرے راستے سے واپس آئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عید کے لیے ایک راستے سے جائے اور دوسرے سے واپس آئے۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستے سے گئے پھر دوسرے راستے سے واپس آئے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1156]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستے سے گئے پھر دوسرے راستے سے واپس آئے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1156]
1156۔ اردو حاشیہ:
یہ عمل مستحب ہے جبکہ صحیح بخاری میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کا دن ہوتا تو (آتے جاتے) راستہ تبدیل کرتے تھے۔ [صحيح بخاري۔ حديث: 986]
یہ عمل مستحب ہے جبکہ صحیح بخاری میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کا دن ہوتا تو (آتے جاتے) راستہ تبدیل کرتے تھے۔ [صحيح بخاري۔ حديث: 986]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1156 سے ماخوذ ہے۔