سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب التَّكْبِيرِ فِي الْعِيدَيْنِ باب: عیدین کی تکبیرات کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَابْنُ أَبِي زِيَادٍ الْمَعْنَى قَرِيبٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ حُبَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو عَائِشَةَ جَلِيسٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ سَأَلَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ، وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ : كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى : " كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ " ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : صَدَقَ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : كَذَلِكَ كُنْتُ أُكَبِّرُ فِي الْبَصْرَةِ حَيْثُ كُنْتُ عَلَيْهِمْ ، وقَالَ أَبُو عَائِشَةَ : وَأَنَا حَاضِرٌ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ .
´مکحول کہتے ہیں کہ` ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں ابوعائشہ نے مجھے خبر دی ہے کہ سعید بن العاص نے ابوموسیٰ اشعری اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کیسے تکبیریں کہتے تھے ؟ تو ابوموسیٰ نے کہا : چار تکبیریں کہتے تھے جنازہ کی چاروں تکبیروں کی طرح ، یہ سن کر حذیفہ نے کہا : انہوں نے سچ کہا ، اس پر ابوموسیٰ نے کہا : میں اتنی ہی تکبیریں بصرہ میں کہا کرتا تھا ، جہاں پر میں حاکم تھا ، ابوعائشہ کہتے ہیں : اس ( گفتگو کے وقت ) میں سعید بن العاص کے پاس موجود تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مکحول کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں ابوعائشہ نے مجھے خبر دی ہے کہ سعید بن العاص نے ابوموسیٰ اشعری اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کیسے تکبیریں کہتے تھے؟ تو ابوموسیٰ نے کہا: چار تکبیریں کہتے تھے جنازہ کی چاروں تکبیروں کی طرح، یہ سن کر حذیفہ نے کہا: انہوں نے سچ کہا، اس پر ابوموسیٰ نے کہا: میں اتنی ہی تکبیریں بصرہ میں کہا کرتا تھا، جہاں پر میں حاکم تھا، ابوعائشہ کہتے ہیں: اس (گفتگو کے وقت) میں سعید بن العاص کے پاس موجود تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1153]
یعنی دونوں رکعتوں میں چار چار تکبیریں ہوتی تھیں۔ پہلی میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ تین، قرأت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد تین اور چوتھی رکوع کے لئے۔ امام ابوداؤد اور امام منذری رحمها اللہ اس حدیث پر کسی نقد سے خاموش ہیں، مگر تحقیق یہ ہے کہ اس حدیث کو مرفوع بیان کرنے میں ابوعائشہ (جلیس ابوہریرہ) منفرد ہے۔ وہ مجہول الحال ہے۔ نیز عبدالرحمٰن بن ثوبان پر بھی جرح ہے۔ اور دیگر ثقات کی ایک جماعت مثلاً علقمہ، اسود اور عبداللہ بن قیس اس قصے کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف بیان کرتے ہیں۔ جبکہ مذکورۃ الصدر احادیث جن میں بارہ تکبیرات زائدہ کا بیان آیا ہے۔ وہ مرفوع ہیں اور اسنادی اعتبار سے صحیح ہیں یا حسن اور دیگر ان کی موئید ہیں۔ اور اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین وائمہ کا ان پر عمل ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے: [مرعاة المفاتيح شرح مشكوة المصابيح، حديث: 145 ➐ 1458]
ایک روایت میں نماز جنازہ کی طرح چار تکبیروں کا ذکر آیا ہے۔ [سنن ابي داود: 1153، شرح معاني الآثار ج4 ص346]
اس کی سند ابوعائشہ (مجہول الحال) کی وجہ سے ضعیف ہے، لہٰذا اسے حسن کہنا غلط ہے۔
اس سلسلے میں طحاوی [345/4] والی ایک روایت حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے منسوخ ہے۔
تنبیہ:
طحاوی والی دوسری روایت ابوعائشہ (غیر صحابی) کی وجہ سے ضعیف ہے، لہٰذا اسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا «اسناده صحيح» کہنا غلط ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز پڑھائی تو پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبیریں کہیں اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔ [موطاً امام مالك ج1 ص180 ح453 و سنده صحيح]
امام مالک نے فرمایا: ہمارے ہاں (مدینہ میں) اسی پر عمل ہے۔ [ايضاً]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی نماز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ قرار دیتے تھے۔ [صحيح بخاري: 803]
معلوم ہوا کہ یہ حدیث مرفوع ہے اور اس کی تائید کے لئے دیکھئے: [سنن ابي داود 1151]
… اصل مضمون …
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77