سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب وَقْتِ الْخُرُوجِ إِلَى الْعِيدِ باب: عید کے لیے نکلنے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1135
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الرَّحَبِيُّ ، قَالَ : " خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى ، فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الْإِمَامِ ، فَقَالَ : إِنَّا كُنَّا قَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ " .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یزید بن خمیر رحبی سے روایت ہے کہ` صحابی رسول عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے ، تو انہوں نے امام کے دیر کرنے کو ناپسند کیا اور کہا : ہم تو اس وقت عید کی نماز سے فارغ ہو جاتے تھے اور یہ اشراق پڑھنے کا وقت تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عید کے لیے نکلنے کے وقت کا بیان۔`
یزید بن خمیر رحبی سے روایت ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے، تو انہوں نے امام کے دیر کرنے کو ناپسند کیا اور کہا: ہم تو اس وقت عید کی نماز سے فارغ ہو جاتے تھے اور یہ اشراق پڑھنے کا وقت تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1135]
یزید بن خمیر رحبی سے روایت ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے، تو انہوں نے امام کے دیر کرنے کو ناپسند کیا اور کہا: ہم تو اس وقت عید کی نماز سے فارغ ہو جاتے تھے اور یہ اشراق پڑھنے کا وقت تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1135]
1135۔ اردو حاشیہ:
نماز عید کے لئے بہت زیادہ تاخیر کرنا اچھا نہیں ہے۔
نماز عید کے لئے بہت زیادہ تاخیر کرنا اچھا نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1135 سے ماخوذ ہے۔
✍️ حافظ زبیر علی زئی
عید الفطر یا عید الاضحی کے دن امام کا (نماز میں) تاخیر کرنا
یزید بن خمیر الرحبی (تابعی)رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن بُسر رضی اللہ عنہ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن (عید گاہ کی طرف) گئے تو انہوں نے امام کا (نماز میں) تاخیر کر دینے کو ناپسند کیا۔ [سنن ابي داود: 1135، سنن ابن ماجه: 1317 وسنده صحيح وصححه الحاكم على شرط البخاري1/ 295ووافقه الذهبي]
صفوان بن عمرو السکسکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ (عید کے) خطبے اور نماز کے لیے (عیدگاہ) جانے میں جلدی کرتے تھے۔ [احكام العيدين للفريابي ص 109 ح 37 وسنده صحيح]
امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگ عید کے دن تکبیر کہتے ہوئے اپنے گھروں سے عیدگاہ جاتے اور جب امام آ جاتا تو خامو ش ہو جاتے، جب امام (نماز کے لئے) تکبیر کہتا تو وہ بھی تکبیر کہتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه2/ 164 ح 1135، احكام العيدين للفريابي ص 117 ح 59 وسنده صحيح]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد سے تکبیر کہتے ہوئے عیدگاہ کی طرف جاتے اور تکبیر کہتے رہتے حتٰی کہ امام آ جاتا۔ [سنن الدارقطني2/ 43 ح 1696، وسنده حسن، محمد بن عجلان صرح بالسماع عند البيهقي فى السنن الكبريٰ3/ 279 و صححه الالباني فى ارواء الغليل3/ 122]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
تحقیقی مقالات جلد 2 صفحہ 48
یزید بن خمیر الرحبی (تابعی)رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن بُسر رضی اللہ عنہ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن (عید گاہ کی طرف) گئے تو انہوں نے امام کا (نماز میں) تاخیر کر دینے کو ناپسند کیا۔ [سنن ابي داود: 1135، سنن ابن ماجه: 1317 وسنده صحيح وصححه الحاكم على شرط البخاري1/ 295ووافقه الذهبي]
صفوان بن عمرو السکسکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ (عید کے) خطبے اور نماز کے لیے (عیدگاہ) جانے میں جلدی کرتے تھے۔ [احكام العيدين للفريابي ص 109 ح 37 وسنده صحيح]
امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگ عید کے دن تکبیر کہتے ہوئے اپنے گھروں سے عیدگاہ جاتے اور جب امام آ جاتا تو خامو ش ہو جاتے، جب امام (نماز کے لئے) تکبیر کہتا تو وہ بھی تکبیر کہتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه2/ 164 ح 1135، احكام العيدين للفريابي ص 117 ح 59 وسنده صحيح]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد سے تکبیر کہتے ہوئے عیدگاہ کی طرف جاتے اور تکبیر کہتے رہتے حتٰی کہ امام آ جاتا۔ [سنن الدارقطني2/ 43 ح 1696، وسنده حسن، محمد بن عجلان صرح بالسماع عند البيهقي فى السنن الكبريٰ3/ 279 و صححه الالباني فى ارواء الغليل3/ 122]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
تحقیقی مقالات جلد 2 صفحہ 48
درج بالا اقتباس تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 48 سے ماخوذ ہے۔