حدیث نمبر: 1133
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، " أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ ، فَيَنْمَازُ عَنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْجُمُعَةَ قَلِيلًا غَيْرَ كَثِيرٍ ، قَالَ : فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ ، قَالَ : ثُمَّ يَمْشِي أَنْفَسَ مِنْ ذَلِكَ ، فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ : كَمْ رَأَيْتَ ابْنَ عُمَرَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : مِرَارًا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَلَمْ يُتِمَّهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن جریج عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ` انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے بعد نفل پڑھتے تو اپنی اس جگہ سے جہاں انہوں نے جمعہ پڑھا تھا ، تھوڑا سا ہٹ جاتے زیادہ نہیں ، پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر پہلے سے کچھ اور دور چل کر چار رکعتیں پڑھتے ۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا : آپ نے ابن عمر کو کتنی بار ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : بارہا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عبدالملک بن ابی سلیمان نے نامکمل طریقہ پر روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1133
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, [1133ب] ضعيف, انظر الحديث السابق (1092), تنبيه : يوجد ھذا الحديث في عون المعبود (1/ 441) وسقط من المصرية, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50
تخریج حدیث « سنن النسائی/ الجمعة 42 (1429)، (تحفة الأشراف: 7329) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´فریضہ جمعہ کے بعد کی نفلی نماز کا بیان۔`
ابن جریج عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے بعد نفل پڑھتے تو اپنی اس جگہ سے جہاں انہوں نے جمعہ پڑھا تھا، تھوڑا سا ہٹ جاتے زیادہ نہیں، پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر پہلے سے کچھ اور دور چل کر چار رکعتیں پڑھتے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا: آپ نے ابن عمر کو کتنی بار ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: بارہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن ابی سلیمان نے نامکمل طریقہ پر روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1133]
1133۔ اردو حاشیہ:
توضیح:
جمعہ کے بعد سنتوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا فعل گھر جا کر دو رکعت پڑھنے کا ہے، اور امت کو چار رکعت کی ترغیب دی ہے۔ بغیر اس فرق کے کہ مسجد میں پڑھی جائیں یا گھر میں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما غالباً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل اور قول دونوں کو جمع کر لیتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح فرمان یا عمل سے چھ رکعت پڑھنا ثابت نہیں ہے، بہرحال چار رکعت افضل اور ر احج ہیں۔ دیکھیے: [مرعاة المفاتيح، حديث: 1175]
اور بعض نے یہ تطبیق بھی دی ہے کہ مسجد میں پڑھنی ہوں تو چار رکعتیں اور گھر جا کر پڑھنی ہوں تو دو رکعتیں پڑھی جائیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1133 سے ماخوذ ہے۔