حدیث نمبر: 1132
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور عبداللہ بن دینار نے بھی اسے ابن عمر سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1132
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (1429 وسنده صحيح) ورواه البخاري (1165) ومسلم (882)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 1127، (تحفة الأشراف: 6948) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1428 | سنن نسائي: 1429 | سنن نسائي: 1430 | صحيح مسلم: 882 | سنن ترمذي: 521 | سنن ابن ماجه: 1131 | مسند الحميدي: 690

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1429 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جمعہ کے بعد امام کے نفلی نماز پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1429]
1429۔ اردو حاشیہ: یہ ایک اور تطبیق ہے جو امام نسائی رحمہ اللہ نے ان دو روایات (چار رکعت اور دو رکعت والی) میں اختیار کی ہے کہ چار پڑھنے کا حکم مقتدیوں کو ہے۔ دیکھیے: [صحیح مسلم، الجمعة، حدیث: 881] اور دو رکعت پڑھنے کا ذکر آپ کے ساتھ خاص ہے۔ گویا امام دو رکعت پڑھے اور مقتدی چار رکعت پڑھیں۔ لیکن امام صاحب کا یہ استدلال محل نظر ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فرمان ہمارے لیے اسوۂ اور نمونہ ہے، اس لیے دو رکعات آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ خاص نہیں، لہٰذا دو بھی پڑھی جا سکتی ہیں اور چار بھی، کسی حدیث پر بھی عمل کر لیا جائے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1429 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1430 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جمعہ کے بعد دو رکعت لمبی سنت پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ وہ جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور ان کو لمبی کرتے تھے اور کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1430]
1430۔ اردو حاشیہ: ➊ جمعے سے پہلے کتنی رکعات پڑھی جائیں؟ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعے سے قبل رکعتوں کی کوئی تعیین کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، نہ قول سے اور نہ آپ کے عمل ہی سے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر رونق افروز ہو جاتے تو اذان شروع ہو جاتی اور اذان کے بعد آپ کسی وقفے کے بغیر خطبہ شروع فرما دیتے، لہٰذا جو شخص امام کے خطبہ شروع ہونے سے پہلے مسجد میں پہنچ جائے تو وہ بلا تعیین جتنی سنتیں اور نوافل پڑھنا چاہے پڑھ لے اور جونہی امام خطبہ شروع کرے، نوافل پڑھنا بند کر دے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [فتاویٰ ابن تیمیة: 20-188/24، و زادالمعاد: 440-432/1] ابن ماجہ کی جس روایت میں جمعے سے پہلے چار رکعت پڑھنے کا ذکر ہے، وہ سخت ضعیف ہے۔ دیکھیے: [سنن ابن ماجه، إقامة الصلوات، حدیث 1129، و ضعیف سنن ابن ماجة للألباني، رقم: 1139] عموماً اسی کے مطابق عمل ہوتا ہے۔ لیکن درست بات وہی ہے جو ذکر ہو چکی ہے۔
➋ شیخ البانی رحمہ اللہ نے لمبا کرنے کے الفاظ کو شاذ قرار دیا ہے۔ دیکھیے: [إرواء الغلیل: 90، 89/3]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1430 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 521 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جمعہ سے پہلے اور اس کے بعد کی سنتوں کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعت (سنت) پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 521]
اردو حاشہ:
1؎:
اس حدیث میں جمعہ کے بعد صرف دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے، اور صحیح مسلم میں ابو ہریرہ سے روایت آئی ہے جس میں چار رکعتیں پڑھنے کا حکم ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں صورتیں جائز ہیں، بعض علماء نے یہ تطبیق دی ہے کہ مسجد میں پڑھنے والا چار رکعت پڑھے، اور گھر میں پڑھے تو دو رکعت پڑھے کچھ لوگ چھ رکعت کے قائل ہیں، لیکن کسی بھی صحیح مرفوع روایت سے یہ ثابت نہیں کہ کس طرح پڑھی جائے، اس میں بھی اختلاف ہے، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ چاروں رکعتیں ایک سلام کے ساتھ پڑھی جائیں اور بعض کا کہنا ہے کہ دو دو کر کے چار رکعت پڑھی جائیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ دو دو کر کے پڑھی جائیں کیونکہ صحیح حدیث میں ہے ((صَلَا ۃُ الَّلیْلِ وَالنَّہَارِمَثْنیٰ مَثْنیٰ)) ’’رات اور دن کی نفل نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 521 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 690 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
690- سالم اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے بعددورکعات ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر سے پہلے دورکعات ادا کرتے، اور ظہر کے بعد دورکعات ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے اور مغرب کے بعد دورکعات ادا کرتے ہوئے اور عشاء کے بعد دورکعات (سنت ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات بتائی گئی ہے، ویسے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود دیکھا نہیں،کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح صادق ہوجانے کے بعد بھی دورکعات ادا کرتے تھے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:690]
فائدہ:
معلوم ہوا کہ جمعے کی فرض نماز کے بعد دو رکعت سنت بھی ادا کی جاسکتی ہیں اور چار رکعت بھی۔ اسی طرح نمازوں کے فرائض سے پہلے یا بعد کے نوافل جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اور معمول تھا یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی تاکید و ترغیب بھی منقول ہے، ان کی تعداد کم از کم 12 ہے۔ ان میں سے 12 نوافل کے بارے میں سیدہ ام حبیب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من صلى اثنتي عشرة ركعة فى يوم وليلة بني له بهن بيت فى الجنة» [صحيح مسلم: 728]
میں نے رسول اللہ سلم سے سنا کہ جو شخص دن اور رات میں 12 رکعات پڑھ لے، ان کی وجہ سے اس کے لیے جنت میں ایک محل بنا دیا جاتا ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مـن صـلـى فى يوم وليلة ثنتي عشرة ركعة بني له بيت فى الجنة أربعًا قبـل الـظهر وركعتين بعدها وركعتين بعد المغرب وركعتين بعد العشاء وركعتين قبل صلاة الغداة» [سنن ترمذي: 415]
جس نے رات اور دن میں 12 رکعت (نوافل) ادا کیے، جنت میں اس کے لیے گھر بنا دیا جاتا ہے: چار رکعت قبل از ظہر، دو بعد میں، دو رکعت مغرب کے بعد، دو عشاء کے بعد اور دو صبج کی نماز سے پہلے۔
دیگر احادیث میں سنتوں کی تفصیل بھی بیان ہوئی وہ ملاحظہ فرمائیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «كـان يصلي فى بيت قبل الظهر أربعا ثم يخرج فيصلي بالناس ثم يدخل فيصلي ركعتين» [صحيح مسلم: 730]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعات نوافل ادا کرتے اور لوگوں کو نماز پڑھانے کے بعد گھر واپس آکر دو رکعات پڑھتے تھے
۔ سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: «صليت مع النبى سجدتين قبل الظهر والسجدتين بعد الظهر» [صحيح بخاري: 1172]
میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دورکعت نوافل ظہر سے پہلے اور دوظہر کی نماز کے بعد پڑھے۔
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مـن حـافـظ على أربع ركعات قبل الظهر وأربـع بعدها حرم على النار» [سنن ابوداود: 1269]
جوشخص ظہر سے قبل اور بعد چار چار رکعات نوافل کا اہتمام کرے، وہ آگ پر حرام ہو جائے گا ۔
مذکورہ بالا روایات سے ظہر کی سنتوں کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ زیادہ سے زیادہ 12 ہیں اور ان میں کم از کم 4 رکعات نوافل مؤکدہ ہیں۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «إن النبى كان لا يدع أربعا قبل الظهر وركعتين قبل الغداة» [صحيح بخاري: 1182]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعات اور فجر سے پہلے کی دو رکعات کبھی نہ چھوڑتے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 690 سے ماخوذ ہے۔