سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب مَا يُقْرَأُ بِهِ فِي الْجُمُعَةِ باب: نماز جمعہ میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1125
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز جمعہ میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔`
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1125]
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1125]
1125۔ اردو حاشیہ:
نماز میں قرآن کریم میں سے کہیں سے پڑھ لیا جائے، تو نماز بلاشبہ صحیح اور درست ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اختیار کردہ قرأت کو معمول بنانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے محبت کی علامت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر مذید کا باعث ہے اور اس میں جو لذت اور شرف ہے وہ اصحاب الحدیث ہی کا نصیبہ ہے۔ «كثر الله سوادهم»
نماز میں قرآن کریم میں سے کہیں سے پڑھ لیا جائے، تو نماز بلاشبہ صحیح اور درست ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اختیار کردہ قرأت کو معمول بنانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے محبت کی علامت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر مذید کا باعث ہے اور اس میں جو لذت اور شرف ہے وہ اصحاب الحدیث ہی کا نصیبہ ہے۔ «كثر الله سوادهم»
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1125 سے ماخوذ ہے۔