سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب الاِحْتِبَاءِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ باب: امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگ گوٹ مار کر نہ بیٹھیں۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : "شَهِدْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَجَمَّعَ بِنَا فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا جُلُّ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَيْتُهُمْ مُحْتَبِينَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَبِي وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، وَشُرَيْحٌ ، وَصَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ ، وَمَكْحُولٌ ،وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، وَنُعَيْمُ بْنُ سَلَامَةَ ، قَالَ : لَا بَأْسَ بِهَا . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَلَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ أَحَدًا كَرِهَهَا إِلَّا عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ .
´یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں` میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو میں نے دیکھا کہ مسجد میں زیادہ تر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں اور میں نے انہیں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھے دیکھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھتے تھے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، شریح ، صعصہ بن صوحان ، سعید بن مسیب ، ابراہیم نخعی ، مکحول ، اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میری معلومات کی حد تک عبادہ بن نسی کے علاوہ کسی اور نے اس کو مکروہ نہیں کہا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو میں نے دیکھا کہ مسجد میں زیادہ تر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں اور میں نے انہیں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھتے تھے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ، شریح، صعصہ بن صوحان، سعید بن مسیب، ابراہیم نخعی، مکحول، اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میری معلومات کی حد تک عبادہ بن نسی کے علاوہ کسی اور نے اس کو مکروہ نہیں کہا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1111]
➊ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں توسع ہے بالخصوص جبکہ محظورات (ممنوع اور ناجائز امور) میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہو۔ علاوہ ازیں یہ حدیث بھی ضعیف ہے بہرحال بہتر یہی ہے کہ «احتباه» اور «حبوه» جیسی نشست سے بچا جائے۔
➋ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خطبے کے دوران میں اکثریت کا اصحاب رسول ہونا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقبول اور پسندیدہ ہونے کی علامت ہے۔