سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب الدُّنُوِّ مِنَ الإِمَامِ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ باب: خطبہ کے وقت امام سے قریب بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1108
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ ، قَالَ قَتَادَةُ : عَنْ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ ،عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " احْضُرُوا الذِّكْرَ ، وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ دَخَلَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خطبہ میں حاضر رہا کرو اور امام سے قریب رہو کیونکہ آدمی برابر دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت میں بھی پیچھے کر دیا جاتا ہے گرچہ وہ اس میں داخل ہوتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خطبہ کے وقت امام سے قریب بیٹھنے کا بیان۔`
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "خطبہ میں حاضر رہا کرو اور امام سے قریب رہو کیونکہ آدمی برابر دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت میں بھی پیچھے کر دیا جاتا ہے گرچہ وہ اس میں داخل ہوتا ہے۔" [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1108]
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "خطبہ میں حاضر رہا کرو اور امام سے قریب رہو کیونکہ آدمی برابر دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت میں بھی پیچھے کر دیا جاتا ہے گرچہ وہ اس میں داخل ہوتا ہے۔" [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1108]
1108۔ اردو حاشیہ:
➊ مسلمان کو بھلائی اور نیکی کے کاموں میں سبقت کرنے کا حریص بننا چاہیے تاکہ اللہ کے ہاں قربت میں سبقت پائے۔ بالخصوص جمعہ اور اس کا خطبہ سننا بہت بڑی اہم نیکیوں میں سے ہے۔
➋ اس طرح امام اور خطیب کے قریب ہو کر بیٹھنا بھی باعث فضیلت ہے۔
➊ مسلمان کو بھلائی اور نیکی کے کاموں میں سبقت کرنے کا حریص بننا چاہیے تاکہ اللہ کے ہاں قربت میں سبقت پائے۔ بالخصوص جمعہ اور اس کا خطبہ سننا بہت بڑی اہم نیکیوں میں سے ہے۔
➋ اس طرح امام اور خطیب کے قریب ہو کر بیٹھنا بھی باعث فضیلت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1108 سے ماخوذ ہے۔