سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب رَفْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْمِنْبَرِ باب: خطبہ میں امام کا منبر پر دونوں ہاتھ اٹھانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1105
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ ،عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِرًا يَدَيْهِ قَطُّ يَدْعُو عَلَى مِنْبَرِهِ وَلَا عَلَى غَيْرِهِ ، وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا : وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَعَقَدَ الْوُسْطَى بِالْإِبْهَامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنے منبر پر دعا مانگتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ غیر منبر پر ، بلکہ میں نے آپ کو اس طرح کرتے دیکھا اور انہوں نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا اور بیچ کی انگلی کا انگوٹھے سے حلقہ بنایا ۔