حدیث نمبر: 1098
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ ، عَنْ تَشَهُّدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، قَالَ : وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى ، وَنَسْأَلُ اللَّهَ رَبَّنَا أَنْ يَجْعَلَنَا مِمَّنْ يُطِيعُهُ وَيُطِيعُ رَسُولَهُ وَيَتَّبِعُ رِضْوَانَهُ وَيَجْتَنِبُ سَخَطَهُ ، فَإِنَّمَا نَحْنُ بِهِ وَلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یونس سے روایت ہے کہ` انہوں نے ابن شہاب ( زہری ) سے جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں اتنا اضافہ کیا : «ومن يعصهما فقد غوى ‏"‏ ‏.‏ ونسأل الله ربنا أن يجعلنا ممن يطيعه ويطيع رسوله ويتبع رضوانه ويجتنب سخطه فإنما نحن به وله» ” جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہو گیا ، ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا رب ہے یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی ڈھونڈھنے والوں اور اس کے غصے سے پرہیز کرنے والوں میں سے بنا لے کیونکہ ہم اسی کی وجہ سے ہیں اور اسی کے لیے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1098
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند مرسل, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19407، 19354) (ضعیف) (یہ حدیث مرسل ہے ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ دینے کا بیان۔`
یونس سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب (زہری) سے جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں اتنا اضافہ کیا: «ومن يعصهما فقد غوى ‏"‏ ‏.‏ ونسأل الله ربنا أن يجعلنا ممن يطيعه ويطيع رسوله ويتبع رضوانه ويجتنب سخطه فإنما نحن به وله» جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہو گیا، ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا رب ہے یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی ڈھونڈھنے والوں اور اس کے غصے سے پرہیز کرنے والوں میں سے بنا لے کیونکہ ہم اسی کی وجہ سے ہیں اور اسی کے لیے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1098]
1098۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت بھی مرسل یعنی تابعی کا بیان ہے اس لئے محدث کے نزدیک ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1098 سے ماخوذ ہے۔