سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب الْخُطْبَةِ قَائِمًا باب: کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1095
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ،عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ قَائِمًا ، ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ " وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا پھر آپ تھوڑی دیر خاموش بیٹھتے تھے ، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا پھر آپ تھوڑی دیر خاموش بیٹھتے تھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1095]
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا پھر آپ تھوڑی دیر خاموش بیٹھتے تھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1095]
1095۔ اردو حاشیہ:
➊ خطبے کی جملہ احادیث سے یہ مسئلہ اخذ ہوتا ہے کہ اس عمل میں مقصود مطلوب سامعین کو وعظ و تذکیر ہے۔ اس لئے اگر سامعین عجمی ہوں عربی نہ سمجھتے ہوں۔ تو انہیں ان کی زبان میں وعظ کیا جائے۔ اس پر یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ پھر تو نماز میں بھی ترجمہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ خطبہ عبادت کے ساتھ ساتھ وعظ و نصیحت بھی ہے، جبکہ نماز خالص عبادت ہے۔ اس میں ذکر اور قرآن کی تلاوت متعین ہے۔ ذکر اور تذکیر میں فرق ہے۔ جیسے کہ قرآن کا ترجمہ قرآن نہیں ہے۔ وہ محض ترجمانی ہے۔ اس لیے نماز کو خطبے پر قیاس کرنا جائز نہیں۔ عجوبہ یہ ہے کہ ان حضرات نے نماز تو۔۔۔ ایک روایت کے مطابق۔۔۔ عجمی زبان میں جائز کر دی ہے۔ مگر خطبے کے لئے یہ گنجائش نہ نکال سکے۔
➋ اصحاب الحدیث کے خطبات جمعہ و عیدین بحمد اللہ سنت کے عین مطابق نبوی خطبات کے عربی الفاظ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ قرآن کریم کی آیات اور اکثر احادیث بھی عربی میں پڑھی جاتی ہیں اور ساتھ ساتھ سامعین کی زبان میں معانی و مفاہیم بیان کیے جاتے ہیں۔
➊ خطبے کی جملہ احادیث سے یہ مسئلہ اخذ ہوتا ہے کہ اس عمل میں مقصود مطلوب سامعین کو وعظ و تذکیر ہے۔ اس لئے اگر سامعین عجمی ہوں عربی نہ سمجھتے ہوں۔ تو انہیں ان کی زبان میں وعظ کیا جائے۔ اس پر یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ پھر تو نماز میں بھی ترجمہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ خطبہ عبادت کے ساتھ ساتھ وعظ و نصیحت بھی ہے، جبکہ نماز خالص عبادت ہے۔ اس میں ذکر اور قرآن کی تلاوت متعین ہے۔ ذکر اور تذکیر میں فرق ہے۔ جیسے کہ قرآن کا ترجمہ قرآن نہیں ہے۔ وہ محض ترجمانی ہے۔ اس لیے نماز کو خطبے پر قیاس کرنا جائز نہیں۔ عجوبہ یہ ہے کہ ان حضرات نے نماز تو۔۔۔ ایک روایت کے مطابق۔۔۔ عجمی زبان میں جائز کر دی ہے۔ مگر خطبے کے لئے یہ گنجائش نہ نکال سکے۔
➋ اصحاب الحدیث کے خطبات جمعہ و عیدین بحمد اللہ سنت کے عین مطابق نبوی خطبات کے عربی الفاظ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ قرآن کریم کی آیات اور اکثر احادیث بھی عربی میں پڑھی جاتی ہیں اور ساتھ ساتھ سامعین کی زبان میں معانی و مفاہیم بیان کیے جاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1095 سے ماخوذ ہے۔