حدیث نمبر: 1090
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ،حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ابْنَ أُخْتِ نَمِرٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : " وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ مُؤَذِّنٍ وَاحِدٍ " ، وَسَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مؤذن کے علاوہ اور کوئی مؤذن نہیں تھا ۔ اور راوی نے یہی حدیث بیان کی لیکن پوری نہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1090
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, انظر الحديث السابق (1087)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 1087، (تحفة الأشراف: 3799) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جمعہ کے دن اذان دینے کا بیان۔`
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مؤذن کے علاوہ اور کوئی مؤذن نہیں تھا۔ اور راوی نے یہی حدیث بیان کی لیکن پوری نہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1090]
1090۔ اردو حاشیہ:
اس روایت کا پس منظر یہ ہے کہ خیرالقرون کے بعد جب مساجد بڑی بڑی بننے لگیں اور آبادی میں اضافہ ہو گیا تو جامع مساجد کے ہر ہر منارے پر ایک موذن مقرر کیا جانے لگا، تو ایک نماز کے لئے ایک مسجد میں کئی کئی موذن اذان دیتے تھے۔ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ ایک موذن کا اذان کہنا ہی سنت ہے نہ کہ متعدد کا۔ دور رسالت میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت ابن ام مکتوم، سعد القرظ، اور ابومحذورہ رضوان اللہ عنہم اجمعین بھی موذن تھے۔ حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ مکہ میں تھے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ قباء میں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1090 سے ماخوذ ہے۔