سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب النِّدَاءِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے دن اذان دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1088
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ،عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : " كَانَ يُؤَذَّنُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ،وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ " ثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` جمعہ کے روز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی تھی اسی طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی ۔ پھر راوی نے یونس کی حدیث کی طرح روایت بیان کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جمعہ کے دن اذان دینے کا بیان۔`
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جمعہ کے روز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی تھی اسی طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی۔ پھر راوی نے یونس کی حدیث کی طرح روایت بیان کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1088]
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جمعہ کے روز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی تھی اسی طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی۔ پھر راوی نے یونس کی حدیث کی طرح روایت بیان کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1088]
1088۔ اردو حاشیہ:
مسجد نبوی کی شمالی بیرونی دیوار کے تقریباً وسط میں آنے جانے والوں کے لئے دروازہ تھا، جو منبر کے سامنے پڑتا تھا۔ اسی پر اذان ہوتی تھی اس لئے کہ یہاں سے عام آبادی تک آواز کا پہنچنا آسان تھا یعنی اذان اپنی معروف جگہ پر ہونی چاہیے۔ عین امام کے سامنے اذان کہنے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، جیسے کہ بعض مقامات پر دیکھنے میں آتا ہے۔
مسجد نبوی کی شمالی بیرونی دیوار کے تقریباً وسط میں آنے جانے والوں کے لئے دروازہ تھا، جو منبر کے سامنے پڑتا تھا۔ اسی پر اذان ہوتی تھی اس لئے کہ یہاں سے عام آبادی تک آواز کا پہنچنا آسان تھا یعنی اذان اپنی معروف جگہ پر ہونی چاہیے۔ عین امام کے سامنے اذان کہنے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، جیسے کہ بعض مقامات پر دیکھنے میں آتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1088 سے ماخوذ ہے۔
✍️ حافظ زبیر علی زئی
جمعہ کے دن پہلی اذان
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جب امام جمعہ کے دن منبر پر بیٹھتا تو پہلی اذان ہوتی تھی۔ الخ [صحيح بخاري: 916]
امام سلیمان بن طرخان التیمی رحمہ اللہ اہلِ حدیث «مدلس من الطبقة الثانيه عند الحافظ ابن حجر رحمه الله، و من الثالثه عندنا» نے امام ابن شہاب سے یہی حدیث درج ذیل الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے: «كان النداء علٰي عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم و أبى بكر و عمر رضي الله عنهما عند المنبر“» إلخ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اذان منبر کے پاس ہوتی تھی۔ الخ [المعجم الكبير للطبراني ج7ص 146۔ 147 ح 6646]
اس روایت کی سند امام سلیمان التیمی تک صحیح ہے لیکن یہ روایت تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔
دو قسم کے لوگوں کے نزدیک یہ روایت بالکل صحیح ہے: ➊ جو لوگ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی تقسیمِ طبقات پر اندھا دھند اعتماد کرتے ہیں۔
➋ جو لوگ ثقہ راویوں کے مدلس ہونے کے سرے سے منکر ہیں یعنی جماعت المسعودیین جو کہ جدید دور کے خوارج میں سے ایک خارجی فرقہ ہے۔
تنبیہ: مسجد کے دروازے کے پاس اذان دینے والی روایت [سنن ابي داود: 1088] محمد بن اسحاق بن یسار مدلس کے «عن» کی وجہ سے ضعیف اور سلیمان التیمی کی روایت کے خلاف ہونے کی وجہ سے منکر و مردود ہے۔
. . . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 75 صفحہ 17 اور علمی مقالات جلد 3 صفحہ 157
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جب امام جمعہ کے دن منبر پر بیٹھتا تو پہلی اذان ہوتی تھی۔ الخ [صحيح بخاري: 916]
امام سلیمان بن طرخان التیمی رحمہ اللہ اہلِ حدیث «مدلس من الطبقة الثانيه عند الحافظ ابن حجر رحمه الله، و من الثالثه عندنا» نے امام ابن شہاب سے یہی حدیث درج ذیل الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے: «كان النداء علٰي عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم و أبى بكر و عمر رضي الله عنهما عند المنبر“» إلخ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اذان منبر کے پاس ہوتی تھی۔ الخ [المعجم الكبير للطبراني ج7ص 146۔ 147 ح 6646]
اس روایت کی سند امام سلیمان التیمی تک صحیح ہے لیکن یہ روایت تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔
دو قسم کے لوگوں کے نزدیک یہ روایت بالکل صحیح ہے: ➊ جو لوگ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی تقسیمِ طبقات پر اندھا دھند اعتماد کرتے ہیں۔
➋ جو لوگ ثقہ راویوں کے مدلس ہونے کے سرے سے منکر ہیں یعنی جماعت المسعودیین جو کہ جدید دور کے خوارج میں سے ایک خارجی فرقہ ہے۔
تنبیہ: مسجد کے دروازے کے پاس اذان دینے والی روایت [سنن ابي داود: 1088] محمد بن اسحاق بن یسار مدلس کے «عن» کی وجہ سے ضعیف اور سلیمان التیمی کی روایت کے خلاف ہونے کی وجہ سے منکر و مردود ہے۔
. . . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 75 صفحہ 17 اور علمی مقالات جلد 3 صفحہ 157
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 157 سے ماخوذ ہے۔