سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب فِي وَقْتِ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1086
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " كُنَّا نَقِيلُ وَنَتَغَدَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے تھے اور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جمعہ کے وقت کا بیان۔`
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے تھے اور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1086]
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے تھے اور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1086]
1086۔ اردو حاشیہ: ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جمعہ زوال کے فوراً بعد ہوتا تھا چونکہ خطبہ مختصر اور نماز قدرے لمبی ہوتی تھی اس لئے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین واپسی پر دیواروں کا اتنا سایہ نہ پاتے تھے کہ اس سے سایہ حاصل کر سکتے جیسے کہ صحیح مسلم کی حدیث [860] کے الفاظ ہیں۔ «وما تجد فيئا فستظل به» یعنی سایہ تو ہوتا تھا مگر بہت کم، «غداء» دوپہر کے کھانے اور «قيلوله» نصف النہار میں استراحت کرنے کو کہتے ہیں، اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ جمعہ قبل الزوال ہوتا تھا۔ مگر یہ استدلال بےمحل ہے، دوپہر کا کھانا دیر کر کے کھایا جائے تو بھی اسے «غداء» ہی کہتے ہیں اور نصف النہار کی استراحت میں تاخیر کی جائے تو بھی اسے «قيلوله» ہی کہتے ہیں۔ لہٰذا جمعہ کے بعد کھانے اور قیلولہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ جمعہ قبل الزوال ہوتا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1086 سے ماخوذ ہے۔