حدیث نمبر: 1082
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : " كَانَ بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْحَائِطِ كَقَدْرِ مَمَرِّ الشَّاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور ( قبلہ والی ) دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ تھی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1082
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (497) صحيح مسلم (509)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصلا ة 91 (497)، صحیح مسلم/الصلاة 49 (509)، (تحفة الأشراف: 4537)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/46، 54) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 509

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 509 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (جو اکوع کا بیٹا ہے) کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کوشش کر کے (مسجد نبوی میں) اس جگہ نفلی نماز پڑھتے جہاں مصحف رکھا ہوا تھا، اور انہوں نے بتایا رسول اللہ ﷺ اس جگہ کو پسند فرماتے تھے اور منبر اور قبلہ کی دیوار کے درمیان بکری گزرنے کے برابر فاصلہ تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1135]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
يَتَحَرّٰي: کوشش کرتے، اس کا انتخاب کرتے، یعنی اس جگہ کو ترجیح دیتے۔
(2)
مَكَانَ المُصْحَف: وہ جگہ، جہاں مسجد نبوی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصحف امام کے لیے صندوق رکھوایا تھا، جہاں اسطوانة المهاجرين (مہاجروں کے بیٹھنے کا ستون)
تھا۔
فوائد ومسائل: دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں محراب نہ تھا اس لیے منبر دیوار کے قریب رکھا گیا تھا منبر اور دیوار کا فاصلہ بکری گزرنے کے بقدر تھا اور آپﷺ منبر کے پاس کھڑے ہوتے تھے اس لیے آپﷺ کی سجدہ گاہ اور دیوار کا فاصلہ بقدر مَمَرََالشَّاۃ تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 509 سے ماخوذ ہے۔