حدیث نمبر: 1079
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ ضَالَّةٌ ، وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهِ شِعْرٌ ، وَنَهَى عَنِ التَّحَلُّقِ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے ، کوئی گمشدہ چیز تلاش کرنے ، شعر پڑھنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: کیوں کہ جمعہ کے دن خطبہ سننا اور خاموش رہنا ضروری ہے، اور جب لوگ حلقہ باندھ کر بیٹھیں گے تو خواہ مخواہ باتیں کریں گے ا س لئے حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ جمعہ سے پہلے کسی وقت بھی حلقہ باندھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1079
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (732), أخرجه النسائي (715 وسنده حسن) ابن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/179)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 124 (322)، سنن النسائی/المساجد 23 (716)، (تحفة الأشراف: 8796)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد 5 (749)، مسند احمد (2/179) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنا کیسا ہے؟`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے، کوئی گمشدہ چیز تلاش کرنے، شعر پڑھنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1079]
1079۔ اردو حاشیہ:
اس حلقہ میں عام دنیاوی گفتگو ہو یا علمی درس و تدریس سب ہی ممنوع ہیں، درس و تدریس اگرچہ شرعاًً مستحب عمل ہے مگر جمعہ کے روز نماز سے پہلے صحیح نہیں۔ اس کی بجائے نماز اور اذکار مسنونہ میں مشغول ہونا چاہیے۔ اس لئے مسنون خطبہ سے پہلے لوگوں کو کسی حلقے میں جمع کرنا خلاف سنت ہے۔ کجا یہ کہ خطیب ہی مسنون خطبے سے پہلے منبر پر بیٹھ کر بیان یا تقریر کے نام سے وعظ شروع کر دے، یہ کسی طرح بھی جائز نہ ہو گا۔ اس طرح عدد کے لحاظ سے بھی یہ تین خطبے ہو جائیں گے، حالانکہ سنت یہ ہے کہ خطبے دو ہی ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1079 سے ماخوذ ہے۔