حدیث نمبر: 1075
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُخَوَّلٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، " وَزَادَ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس طریق سے بھی مخول سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سورۃ الجمعہ اور «إذا جاءك المنافقون» پڑھتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1075
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (879)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5613) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جمعہ کے دن فجر میں کون سی سورۃ پڑھے؟`
اس طریق سے بھی مخول سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سورۃ الجمعہ اور «إذا جاءك المنافقون» پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1075]
1075۔ اردو حاشیہ:
ان سورتوں کی قرأت مسنون مستحب اور افضل ہے اور اس طرح معنوی اعتبار سے گویا مسلمانوں کو پورے ایک ہفتے کا درس دیا جاتا ہے۔ ان میں توحید و رسالت، قیامت، جنت، دوزخ، ایمان، علم اور عمل وغیرہ سب ہی امور کا بیان ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1075 سے ماخوذ ہے۔