سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي حُمْرَانُ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ ، وَقَالَ فِيهِ : وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ هَكَذَا ، وَقَالَ : مَنْ تَوَضَّأَ دُونَ هَذَا كَفَاهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الصَّلَاةِ .
´حمران کہتے ہیں کہ` میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا ، پھر اس حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی ، مگر کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا تذکرہ نہیں کیا ، حمران نے کہا : عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کا تین بار مسح کیا پھر دونوں پاؤں تین بار دھوئے ، اس کے بعد آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اس سے کم وضو کرے گا ( یعنی ایک ایک یا دو دو بار اعضاء دھوئے گا ) تو بھی کافی ہے “ ، یہاں پر نماز کے معاملہ کا ذکر نہیں کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
پھر (پورے) سر کا مسح کریں۔ [البخاري: 159 ومسلم: 226]
اپنے دونوں ہاتھوں سے مسح کریں۔ سر کے شروع سے ابتدا کر کے گردن کے پچھلے حصے تک لے جائیں اور وہاں سے واپس شروع والے حصے تک لے آئیں۔ [البخاري: 185 ومسلم:235]
سر کا مسح ایک بار کریں۔ [سنن ابي داود: 111 وسنده صحيح]
تنبیہ: بعض روایات میں تین دفعہ سر کے مسح کا بھی ذکر آیا ہے۔ دیکھئے: [سنن ابي داود: 107 وسنده حسن، 110 وسنده حسن]
لہٰذا دونوں طرح عمل جائز ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
تحقیقی و علمی مقالات للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (جلد 2 صفحہ 200 تا 204)