حدیث نمبر: 1069
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَ قَائِدَ أَبِيهِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ بَصَرُهُ ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَرَحَّمَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ تَرَحَّمْتَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، قَالَ : لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ جَمَّعَ بِنَا فِي هَزْمِ النَّبِيتِ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي نَقِيعٍ ، يُقَالُ لَهُ : نَقِيعُ الْخَضَمَاتِ ، قُلْتُ : كَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : أَرْبَعُونَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ` ان کی بصارت چلی جانے کے بعد وہ ان کے راہبر تھے ، وہ کہتے ہیں کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب جمعہ کے دن اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ، عبدالرحمٰن بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب آپ اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : میں ان کے لیے رحمت کی دعا اس لیے کرتا ہوں کہ یہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں قبیلہ بنو بیاضہ کے حرہ نقیع الخضمات میں واقع ( بستی ، گاؤں ) ھزم النبیت ۱؎ میں جمعہ کی نماز پڑھائی ، میں نے پوچھا : اس دن آپ لوگ کتنے تھے ؟ کہا : ہم چالیس تھے ۔

وضاحت:
۱؎: مدینہ سے ایک میل کے فاصلہ پر ایک بستی تھی جس کا نام ہزم النبیت تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1069
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن خزيمة (1724 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 78 (1082)، (تحفة الأشراف: 11149) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دیہات (گاؤں) میں جمعہ پڑھنے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی بصارت چلی جانے کے بعد وہ ان کے راہبر تھے، وہ کہتے ہیں کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب جمعہ کے دن اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے، عبدالرحمٰن بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب آپ اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں ان کے لیے رحمت کی دعا اس لیے کرتا ہوں کہ یہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں قبیلہ بنو بیاضہ کے حرہ نقیع الخضمات میں واقع (بستی، گاؤں) ھزم النبیت ۱؎ میں جمعہ کی نماز پڑھائی، میں نے پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ کہا: ہم چالیس تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1069]
1069۔ اردو حاشیہ:
بنو بیاضہ انصار کی ایک شاخ ہے۔ حرہ ایسی سنگلاخ زمین کو کہتے ہیں جس میں سیاہ پتھر ہوں۔ یہ بستی مدینے میں ایک میل کے فاصلے پر تھی۔
➋ ان حضرات کا چالیس کی تعداد میں ہونا ایک اتفاقی عدد اور خبر ہے ورنہ صحت جمعہ کے لئے افراد کی تعداد متعین ہونے کی بابت کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔ اگر یہ استدلال تسلیم کر لیا جائے۔ تو رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر نمازوں کی جماعت کے اثبات کے لئے بھی افراد کی تعداد کا تعین اور اس کی دلیل طلب کرنی پڑے گی۔ تفصیل کے لئے دیکھیے: [السيل الجرار: 297/1]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1069 سے ماخوذ ہے۔