سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ الْجُمُعَةُ باب: کن لوگوں پر جمعہ واجب ہے؟
حدیث نمبر: 1056
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ يَعْنِي الطَّائِفِيَّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْهٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَارُونَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْجُمُعَةُ عَلَى كُلِّ مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ ، عَنْ سُفْيَانَ مَقْصُورًا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَلَمْ يَرْفَعُوهُ وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ قَبِيصَةُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ ہر اس شخص پر ہے جس نے جمعہ کی اذان سنی ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو ایک جماعت نے سفیان سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما پر موقوف کیا ہے اور صرف قبیصہ نے اسے مسند ( یعنی مرفوع روایت ) کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کن لوگوں پر جمعہ واجب ہے؟`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ ہر اس شخص پر ہے جس نے جمعہ کی اذان سنی ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ایک جماعت نے سفیان سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما پر موقوف کیا ہے اور صرف قبیصہ نے اسے مسند (یعنی مرفوع روایت) کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1056]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ ہر اس شخص پر ہے جس نے جمعہ کی اذان سنی ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ایک جماعت نے سفیان سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما پر موقوف کیا ہے اور صرف قبیصہ نے اسے مسند (یعنی مرفوع روایت) کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1056]
1056۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت تو سنداً ضعیف ہے، مگر التزام جماعت کی دیگر احادیث سے معناً اس کی تائید ہوتی ہے۔
یہ روایت تو سنداً ضعیف ہے، مگر التزام جماعت کی دیگر احادیث سے معناً اس کی تائید ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1056 سے ماخوذ ہے۔